مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 51
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 41 کی معیت میں ان کے سیکرٹری اور مشیر خاص کے علاوہ جرمن سعودی عرب ایمبیسی کے نمائندہ ، ڈچ براڈ کاسٹ برائے عرب ممالک کے انچارج اور جمہوریہ عرب کی ایمبیسی کے نمائندہ بھی تھے۔پریس نے قبل از وقت شہزادہ فیصل کی تصویر کے ساتھ یہ خبر ایک بڑے کالم میں شائع کر دی تھی کہ آپ مسجد مبارک کی زیارت کے لئے جارہے ہیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حافظ قدرت اللہ صاحب نے احباب جماعت کے ساتھ پر تپاک استقبال کیا۔بعد ازاں حافظ قدرت اللہ صاحب نے عربی زبان میں ایڈریس پڑھا جس میں شہزادہ موصوف کا خیر مقدم کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ بیان کی اور بتلایا کہ یہ چھوٹی سی غریب جماعت کن مشکل حالات میں بھی خدمت دین کے مقدس فریضہ کو سرانجام دے رہی ہے۔نیز جماعت کی طرف سے غیر زبانوں میں شائع کردہ اسلامی لٹریچر اور تراجم کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمت میں قرآن مجید انگریزی اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ تحفہ پیش کیا۔پرنس موصوف معلومات حاصل کر کے جماعت کے کام سے بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ مشن کی لائبریری کے لئے اگر کچھ کتب کی ضرورت ہو تو میں وطن واپس جا کر ارسال کر سکتا ہوں۔چنانچہ آپ نے سعودی عرب پہنچ کر قریباً ایک سو جلدیں بذریعہ ہوائی جہاز بھجوائیں جو تفسیر طبری، جامع الاصول فی احادیث الرسول اور دیگر مختلف کتابوں پر ر مشتمل تھیں۔شہزادہ فہد الفیصل حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے مل کر بہت خوش ہوئے اور آپ کی ان بے مثال اور عظیم خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جو آپ نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرانجام دیں اپنے پر خلوص اور تشکرانہ جذبات کا اظہار کیا۔آپ نے قریباً ایک گھنٹہ تک قیام فرمایا اور ڈچ مسلمانوں سے تعارف حاصل کیا۔یہاں کی خبر رساں ایجنسی کے نمائندگان بھی موقع پر موجود تھے جنہوں نے اس نظارہ کو فلمایا اور مسجد کے مختلف مناظر کی تصاویر لیں۔اخبار کے نمائندگان کی طرف سے مسجد کی تصویر کے ساتھ جملہ کارروائی کی خبر شائع ہوئی۔تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 282 - 284)