مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 569 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 569

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 541 نے مسیح و مہدی کے ظہور سے فرمائی جو غیر عرب اور فارسی الاصل ہو گا۔جس کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور مُہر کے تحت غیر تشریعی نبوت کا مقام ہو گا۔پس اگر مسلمانوں نے خلافت کے قیام کی کوشش کرنی ہے تو اس رہنما اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کریں۔“ انسانی کوششوں سے نظام خلافت قائم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو مخاطب کر کے حضور انور نے فرمایا: وو پس خلافت کے لئے اللہ تعالیٰ کے رحم نے جوش مارنا تھا نہ کہ حکومتوں کے خلاف مسلمانوں کے پُر جوش احتجاج سے خلافت قائم ہونی تھی۔کیا ہر ملک میں خلافت قائم کریں گے؟ اگر کریں گے تو کس ایک فرقے کے ہاتھ پر تمام مسلمان اکٹھے ہوں گے۔نماز میں امامت تو ہر ایک فرقہ دوسرے کی قبول نہیں کرتا۔پس اس کا ایک ہی حل ہے کہ پہلے مسیح موعود کو مانیں اور پھر آپ علیہ السلام کے بعد آپ کی جاری خلافت کو مانیں۔یہ وہ خلافت ہے جو شدت پسندوں کا جواب شدت پسندی کے رویے دکھا کر قائم نہیں ہوئی۔مسلم امہ کے دو گروہوں کے درمیان گولیاں چلانے اور قتل وغارت کرنے سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش دلانے سے قائم ہونے والی خلافت ہے۔اور جو خلافت اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی عنایت سے ملے گی تو وہ نہ صرف مسلم اُمہ کے لئے محبت پیار کی ضمانت ہوگی بلکہ گل دنیا کے لئے امن کی ضمانت ہوگی۔حکومتوں کو اُن کے انصاف اور ایمانداری کی طرف توجہ دلائے گی۔عوام کو ایمانداری اور محنت سے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائے گی۔پس جماعتِ احمد یہ تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس تمام فساد کا جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے ایک ہی حل پیش کرتی ہے کہ خیر امت بننے کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر، دنیا کے دل سے خوف دور کر کے اُس کے لئے امن، پیار اور محبت کی ضمانت بن جاؤ۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن جاؤ۔اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب بھی جسے چاہے کلیم بنا سکتا ہے تا کہ خیر امت کا مقام ہمیشہ اپنی شان دکھاتا رہے۔یہ سب کچھ زمانے کے امام 66 سے جُڑنے سے ہوگا۔اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے مسلمانوں کی حالت بھی سنورے گی۔“