مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 29
مصالح العرب۔جلد دوم 19 منکرین خلافت کا فتنہ اور عرب ممالک کی جماعتوں کا اخلاص حضرت مصلح موعودؓ کے بغرض علاج سفر یورپ کا ہم ذکر کر آئے ہیں جس کے دوران آپ نے ارضِ شام اور لبنان کو بھی شرف بخشا اور کچھ دن وہاں قیام فرمایا۔سفر یورپ سے کامیاب مراجعت کے اگلے سال کے شروع میں بعض منافقین اور منکرین خلافت نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس فتنہ کو ہوا دینے والے بعض اشخاص کا دیگر افراد جماعت کے ہاں بھی آنا جانا تھا جو انکے مسموم خیالات کو پھیلانے اور فتنہ کو مزید ہوا دینے کا موجب ہو رہا تھا۔ان مذموم خیالات میں ان کے ایک رکن کا یہ بیان بھی تھا کہ جب خلیفہ اسیح الثانی فوت ہو جائیں گے تو اگر جماعت نے مرزا ناصر احمد کو خلیفہ بنایا تو یہ لوگ انکی بیعت نہیں کریں گے۔جن مخلص افراد جماعت کے سامنے اس منافق نے یہ بات کی انہوں نے جوابا کہا کہ مرزا ناصر احمد کی خلافت کا سوال نہیں تو ہمارے زندہ خلیفہ کی موت کا متمنی ہے اس لئے تو ہمارے نزدیک خبیث آدمی ہے۔یہاں سے چلا جا ہم تجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔جب یہ صورتحال حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سامنے آئی تو آپ نے تمام افراد جماعت کے لئے ایک اعلان شائع کروایا جس میں فرمایا: ایک طرف تو جماعت مجھے خط لکھتی ہے کہ ہم آپ کی زندگی کے لئے رات دن دعائیں کرتے ہیں۔دوسری طرف جماعت اس شخص کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے جو میری موت کا متمنی ہے آخر یہ منافقت کیوں ہے؟ آپ کو دوٹوک فیصلہ کرنا ہوگا۔اگر آپ نے فورا دو می