مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 549 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 549

521 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم شرکت کی اور جو جذبات تھے انہیں دنیا کی کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی۔اس جلسے کی عظمت اور ان حسن اور تنظیم اور رضا کارانہ ڈیوٹی دینے والوں کا جذبہ دیکھ کر فوراً یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ دنیا میں کون اتنی منظم شکل میں یہ کام کر سکتا ہے۔اتنی بڑی تعداد کی ضیافت کون کر سکتا ہے۔ایک دل پر اتنے ہزاروں ہزار لوگوں کو کون جمع کر سکتا ہے۔تو اس کا ایک ہی جواب ملتا کہ خدا کا ہاتھ آپ کے اوپر ہے اور وہی دلوں میں محبت اور الفت پیدا کرتا ہے اور وہی کام آسان کرتا ہے۔کہتی ہیں پہلے میں عالمی بیعت ٹی وی پر دیکھتی تھی۔خود حاضر ہو کر بیعت کرنا تو ایک خواب تھا جو امسال خدا تعالیٰ نے پورا کیا۔( انہوں نے بھی کچھ عرصہ پہلے ہی بیعت کی ہے۔جلسہ گاہ میں بیٹھ کر کی بیعت کرتے وقت لگا کہ گویا میں ایک نئی دنیا میں ہوں۔شدت جذبات سے دل کی اور ہی حالت ہو رہی تھی۔بدن پر لرزہ طاری تھا۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔خدا کی رحمت و عفو پر نظر تھی اور دل میں خوشی کی لہر۔سجدہ شکر میں تو گویا میں نے خدا تعالیٰ کو اپنے سے چند قدم کے فاصلے پر محسوس کیا۔خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں اور تقصیروں کی معافی مانگی۔ایسے لگا کہ یوم قیامت ہے اور دنیا بہت چھوٹی ہوگئی ہے۔پھر ایک اور خاتون ہیں مکرمہ عمیر رضا علمی صاحبہ، کہتی ہیں کہ جلسہ کے آخری لمحات میں شدید جذبات غالب رہے اور میں کہہ رہی تھی کہ جب میں واپس مصر پہنچوں گی تو اہل وطن کو چیخ چیخ کر کہوں گی کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ! اپنی نیند سے اٹھو۔تمہارا مہدی آ گیا ہے اور نشان ظاہر ہو گیا ہے۔پس اس کی تصدیق کے لئے دل سے کوشش کرو۔۔۔۔مکرم عبدالرؤوف ابراہیم قزق صاحب کہتے ہیں کہ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جلسہ عربوں کے لئے مخصوص تھا۔انشاء اللہ دشمنوں کی ڈالی ہوئی تمام روکیں زائل ہو جائیں گی۔اور انشاء اللہ عرب فوج در فوج جماعت میں داخل ہوں گے۔گویا کہ ایک بند ٹوٹ گیا ہے۔مخالفین کا تکبر ٹوٹ جائے گا اور عنقریب حضرت امام مہدی علیہ السلام کا جھنڈا پورے بلاد عربیہ پر لہرانے لگے گا اور عنقريب يُصَلُّوْنَ عَلَيْكَ صُلَحَاءُ الْعَرَبِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ کا الہام بڑی شان سے پورا ہوگا۔دنیا کے بہت سے ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک سے ایسے پیغامات جلسہ کے بعد ملے جن سے لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضلوں کی بارش برسائی ہے۔جہاں دنیا ہوا و ہوس میں مبتلا ہے مسیح محمدی کے غلام اپنی روحانیت میں ترقی کے لئے کوشش میں مصروف ہیں اور