مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 548
520 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم دے کر کہا کہ انہوں نے مجھے کچھ ایسا سمجھا دیا کہ اب چین نہیں آ سکتا جب تک میں پوری معلومات نہ لے لوں۔اور پھر کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے عقائد و نظریات سے مجھے دوبارہ کی روحانی زندگی عطا ہوئی ہے اور اب امام مہدی کی آمد کے بعد جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔میں جماعت احمدیہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں احمدیت قبول کروں تو صرف میں اکیلی احمدیت قبول نہیں کروں گی بلکہ میرے ساتھ میرے عزیز واقارب اور دوست اور کئی تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوں گے۔اور میرے آخری خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آخری حصے میں عرب سے تعلق رکھنے والے احمدیوں سے خطاب کرتے ہوئے جو آپ نے کہا کہ لوگ جاگیں ، یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں اور مکہ میں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی جماعت کے لئے بھی دعائیں کریں۔اس دوران کہتی ہیں میں بہت روئی اور میری آنکھوں سے آنسو امڈ آئے کیونکہ میں عرب قوم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہوں اور ایک دن قبل ہی بیگم صاحبہ نے مجھے ضرورت امام مہدی علیہ السلام اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بتایا۔مجھے اس لیے محسوس ہوا ( پھر میرا حوالہ دیا ) کہ جیسے وہ مجھے خود مخاطب ہیں۔تو کہتی ہیں کہ میرے دل میں اس وقت یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ آپ لوگوں پر دنیا می کے کئی ممالک میں بے حد ظلم جاری ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔کہتی ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سال میں انشاء اللہ جلسہ سالانہ UK میں اکیلی نہیں ہوں گی بلکہ میرے ساتھ پارلیمنٹ کے مزید ممبر بھی شامل ہوں گے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن) جلسہ کے بارہ میں بعض نواحمدی عربوں کے تاثرات حضورا نو را یدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی خطبہ جمعہ میں بعض عرب احمدیوں کے تاثرات بھی بیان فرمائے جنہیں نے پہلی دفعہ جلسہ سالانہ میں شرکت کا موقعہ ملا تھا۔فرمایا: ایک احمدی خاتون ہیں مکرمہ رِیم شَرِيْقِی اِخْلف صاحبہ، یہ کہتی ہیں پہلی دفعہ میں نے