مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 499
مصالح العرب۔جلد دوم پہلے حصہ کا جواب 471 اس اعتراض کے دو حصے ہیں۔ایک یہ کہ کیا اصولی طور پر خدا تعالیٰ کا کوئی نیا نام کسی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو سکتا ہے یا نہیں۔اس کا جواب خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ہوا ہے۔آپ نے غم وحزن کے وقت کی ایک دعا ہمیں سکھائی ہے جو اللهم إنى عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ اَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِي به حُكْمُكَ، عَدَلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَلْهَمْتَ عِبَادِكَ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي مَكْنُونِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِى وَجَلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّنْ - (مشكاة المصابيح، كتاب أسماء اللہ ، باب الدعوات في الأوقات ) ترجمہ: اے اللہ میں تیرا غلام ہوں، اور تیرے غلام اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں میں ہر آن تیرے قبضہ اور تصرف میں ہوں ، میری پیشانی کے بال تیرے ہاتھ میں ہیں، تیرا حکم میرے حق میں جاری ہے، میرے بارہ میں جو تیرا فیصلہ ہے وہ عین عدل وانصاف ہے۔میں تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کے عرض کرتا ہوں جسے تو نے اپنی ذات کے لئے اختیار کیا ہے، یا اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا اسے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنے بندوں میں سے کسی کو الہاما بتایا ہے یا اسے اپنے پاس پردہ غیب میں رکھا ہوا ہے، ان تمام ناموں کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ) کہ تو قرآن کریم کو میرے دل کی بہار اور میری آنکھوں کا نور اور میرے فکر و غم وحزن کو دور کرنے والا بنادے۔جسے تو نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنے بندوں میں سے کسی کو الہاما بتایا“ کے الفاظ اس زعم کے رڈ کے لئے کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی نیا نام کسی کو الہاما نہیں بتا تا اور خدا تعالیٰ کے معروف ناموں کے علاوہ اور کوئی نام نہیں ہوسکتا۔