مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 488 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 488

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 460 انٹرنیٹ پر ایک ڈسکشن فورم میں ایک ممبر نے یہ نفرت انگیز بیان پڑھا تو اس پر رائے دینے سے قبل نہایت سادگی سے لکھا : مجھے تو اس جماعت کے بارہ میں کچھ علم نہیں ہے لیکن چینل کی فریکوینسی میں نے نوٹ کر لی ہے اور آج یہ چینل دیکھوں گا پھر بات ہوگی۔حقیقی صد ایک ویب سائٹ پر ایم ٹی اے 3 العربیہ اور جماعت احمدیہ سے دور رہنے کی تنبیہ پر مشتمل ایک اعلان میں اس کے لکھنے والے الشیخ ابومحمد موسیٰ صاحب نے مختلف دینی مراکز کے فتاوی اور علماء کے اقوال نقل کئے اور جماعت احمدیہ کو کافر اور مرتد ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن بظاہر نفرت اور مخالفت کی مہمات میں بھی کبھی کبھا ریچ منہ سے نکل جاتا ہے۔یہ موصوف لکھتے ہیں: آج کل مسلمانوں پر ہر طرف سے دشمنان اسلام اور کافر و گمراہ فرقے ٹوٹے پڑتے ہیں ان حالات میں الجماعة الإسلامية الأحمدية القاديانية کے نام سے ایک نیا فرقہ سامنے آیا ہے جو اپنے ٹی وی چینل کے ذریعہ مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔یہ فرقہ پادری زکریا بطرس کے مزاعم کے رڈ کے تمنائی مسلمانوں کے دلوں میں اس لئے بھی اپنی جگہ بنائے جارہا ہے کیونکہ مسلمانوں کو الا زہر کے شیوخ اور مختلف دینی چینلز پر نظر آنے والے دیگر بڑے بڑے علماء سے کوئی ایسا معقول جواب نہیں ملا جو ان کی پیاس بجھا سکے۔۔۔۔۔( آگے انہوں نے جماعت کے خلاف مختلف فتاوی تکفیر درج کئے ہیں ، اس کے بعد لکھتے ہیں ) اس بناء پر اس فرقہ کے بارہ میں انتباہ کرنا ہمارا فرض بنتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔“ (http://www۔muslm۔net/vb/showthread۔php?t=223130) گویا ان کو اصل صدمہ یہ تھا کہ الازہر کے مشایخ اور دیگر علماء عیسائیت کے حملہ کے خلاف اسلام کے دفاع سے عاجز آگئے اور احمدیت نے یہ کام کر دکھایا ہے اس لئے لوگ ان کی طرف مائل ہو گئے ہیں ورنہ ان کے نزدیک حقیقت میں یہ کافر اور مرتد جماعت ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ وقت کے اس واضح فیصلہ کے بعد بھی اتمام حجت کی کوئی کسر باقی رہتی ہے۔سادہ سی بات کیوں نہیں مان لیتے کہ جس نے اسلام کا دفاع کیا ہے وہی اسلام کا دفاع کرنے والا ہے، اور جو اس سے عاجز ہے وہ حقیقی دفاع کرنے والا نہیں ہے، بلکہ یہ