مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 467
441 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کی کمی ہے۔بہر حال میں نے واپسی پر حضور انور کی خدمت میں تمام صورتحال پیش کر دی ہے لیکن ایسے محسوس ہوا جیسے حضورانور اس بات کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ ایسا ہو کر ہی رہے گا ، کیونکہ حضور انور نے فرمایا ابتدا میں چاہے کوئی شخص بیٹھ کر بعض کتابیں ہی پڑھ کر ریکارڈ کرا دے،صرف ایسی نصوص چینی جائیں جن کے ذریعہ سے جماعت کا پیغام عرب دنیا تک پہنچ جائے۔چنانچہ حضورانور کے ارشاد کے مطابق چیئر مین ایم ٹی اے اور بعض دیگر کارکنان نے کسی عربی سیٹیلائٹ پر جماعت کے عربی چینل کی نشریات کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔2005ء کے آخر تک کئی کمپنیوں کے ساتھ بات چلی لیکن کہیں بھی کامیابی نہ مل سکی۔2006ء میں مشرق وسطی میں سیٹیلائٹ پر جگہ فراہم کرنے والی ایک کمپنی سے بات ہوئی اور عرب ساٹ یا نائل ساٹ میں سے کسی ایک پر ہمیں جگہ ملنے اور لاکھوں عربوں تک رسائی حاصل کرنے کی امید ہوگئی جس نے 2007 ء میں حقیقت کا روپ دھار لیا اور اٹلانٹک برڈ 4 ( 4 Atlantic bird) کے ذریعہ مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام عرب کی فضاؤں کو معطر کرنے لگا۔اور بالآخر 23 مارچ 2007ء کو حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دست مبارک سے اس نئے عربی چینل کا افتتاح فرمایا جس کا نام 3-mta العربیہ رکھا گیا۔تجرباتی نشریات کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربوں کو مخاطب کر کے فصیح و بلیغ عربی زبان میں تحریر فرمودہ نہایت مؤثر اور دل میں اتر جانے والے اقتباسات پر شوکت آواز میں پڑھ کر پیش کئے گئے۔جس پر ابتدا پر کئی لوگوں کی طرف سے استفسار کیا گیا کہ آپ کون لوگ ہیں اور یہ مؤثر اور دل میں اتر جانے والے کلمات کس شخصیت کے ہیں؟ لوگوں کے اچھے رد عمل اور کثرت سے جماعت کے عقائد کو سراہنے اور احمدیت قبول کرنے نے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ نے ہر کام کرنے کا ایک وقت رکھا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر چیز مسخر میسر ہو جاتی ہے اور وہ کام بظاہر ناممکن و محال دکھائی دینے کے غیر معمولی آسانی اور ٹیسر سے ہونے لگتا ہے۔