مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 463 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 463

437 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم چلے آئے ہیں۔لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا ایک ایسے زمانہ کے آنے پر مج موقوف تھا کہ جو بباعث کھل جانے راہوں کے تمام دنیا کو ممالک متحدہ کی طرح بناتا ہے اور ایک ہی قوم کے حکم میں داخل کرتا ہے۔اور اندرونی اور بیرونی طور پر تعلیم حقانی کے لئے نہایت مناسب اور موزون ہو۔سب اب وہی زمانہ ہے کیونکہ باعث کھل جانے راستوں اور مطلع کی ہونے ایک قوم کے دوسری قوم سے اور ایک ملک کے دوسرے ملک سے سامان تبلیغ کا بوجہ احسن میسر آ گیا ہے اور بوجہ انتظام ڈاک و ریل و تار و جہاز و وسائل متفرقه اخبار وغیرہ کے دینی تالیفات کی اشاعت کے لئے بہت سی آسانیاں ہو گئی ہیں۔غرض بلاشبہ اب وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ جس میں تمام دنیا ایک ہی ملک کا حکم پیدا کرتی جاتی ہے۔اور باعث شائع اور رائج ہونے کئی زبانوں کے تفہیم تفہیم کے بہت سے ذریعے نکل آئے ہیں اور غیریت اور اجنبیت کی مشکلات سے بہت سی سبکدوشی ہوگئی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ میں ہر یک ذریعہ اشاعت دین کا اپنی وسعت تامہ کو پہنچ گیا ہے۔ماسوا اس کے یہ زمانہ اشاعت دین کے۔لئے ایسا مددگار ہے کہ جو امر پہلے زمانوں میں سو سال تک دنیا میں شائع نہیں ہوسکتا تھا۔اب اس زمانہ میں وہ صرف ایک سال میں تمام ملکوں میں پھیل سکتا ہے۔اس لئے اسلامی ہدایت اور ربانی نشانوں کا نقارہ بجانے کے لئے اس قدر اس زمانہ میں طاقت وقوت پائی جاتی ہے جو کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔صدہا وسائل جیسے ریل و تار و اخبار وغیرہ اسی خدمت کے لئے ہر وقت طیار ہیں کہ تا ایک ملک کے واقعات دوسرے ملک میں پہنچادیں۔سو بلاشبہ معقولی اور روحانی طور پر دین اسلام کے دلائل حقیقت کا تمام دنیا میں پھیلنا ایسے ہی زمانہ پر موقوف تھا اور یہی با سامان زمانہ اس مہمان عزیز کی خدمت کرنے کے لئے من کل الوجوہ اسباب مہیا رکھتا ہے۔پس خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صد با نشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صد با دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ کی فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حقہ قرآنیہ کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرمادے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے غرض خدا وند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعت دین کے اور دلائل اور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل وکرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں وہ اُمم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے۔اور جو کچھ اس بارہ میں تو فیقات غیبیہ اس عاجز کو