مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 417 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 417

393 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ناسخ اور منسوخ کے منکر ہیں۔عیسی علیہ السلام کے رفع الی اللہ کے منکر ہیں اور ایک پرانے فتوی اور شیخ محمد عبدہ کی بعض تحریرات سے اس کی وفات ثابت کرتے ہیں۔مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے منکر ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ان کو صلیب پر لٹکایا گیا لیکن صلیب پر ان کی وفات نہیں ہوئی۔(http://www۔elforkan۔com/7ewar/showthread۔php?t=4408) ایک شخص ابو عبیدہ نے 25 دسمبر 2006ء کو اتباع المرسلین نامی ویب سائیٹ پر ثابت صاحب کو کافر اور ضال وغیرہ کہنے کے بعد لکھا کہ: میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں اس شخص ( مصطفیٰ ثابت) کے علم کو بالکل ہی رڈ کر دینا چاہئے ، بلکہ ہمیں اس کے بعض دلائل و براہین لے لینے چاہیں لیکن اس کی تعریف یا اس کے لئے دعا وغیرہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ خدا کی خاطر ہمیں اس سے بغض رکھنا چاہئے“۔(http://www۔ebnmaryam۔com/vb/t12986۔html) اس قسم کے تبصروں کے ساتھ تقریباً ہر ایک نے ہی یہ بھی لکھا کہ ڈاکٹر محمد عمارہ نے شاید مصطفیٰ ثابت صاحب کی کتاب کا مقدمہ اس لئے لکھ دیا کیونکہ انہیں ثابت صاحب کے احمدی ہونے کا علم نہ تھا، اور یہ کہ انہیں ایک بیان کے ذریعہ اپنے مقدمہ کو واپس لینا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ اسی عرصہ میں جب أَجْوِبَة عَنِ الْإِيْمَان کا دوسرا حصہ چھپا تو اس کا بھی ڈاکٹر محمد عمارہ نے 10 صفحات پر مشتمل مقدمہ لکھا جس کے آخر پر حاشیہ میں لکھا کہ پہلے حصہ کی اشاعت پر بہت سے لوگوں نے شور مچایا ہے کہ ایسی کتاب کی اس قدر پذیرائی کیوں کی گئی جس کے مؤلف کے مذہب سے جمہور مسلمین کا اختلاف ہے۔اس کے جواب میں ہم سب کو یہ زریں اصول یاد دلاتے ہیں : لا تعرف الحق بالرجال ولكن اعرف الحق تعرف أهله_اس کا مطلب ہے کہ کسی کی شخصیت کی بنا پر حق کے حق ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا بلکہ جس کے پاس حق ہو گا وہی اہل حق کہلائے گا۔اور ہم اپنے آپ کو ایک کلمہ حق کے سامنے پاتے ہیں جو اس کتاب کے مؤلف کے قلم سے نکلا ہے۔ہمیں اس کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں۔ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہم نے ذکر کیا ہے کہ احمد رائف صاحب مصر کے ایک دار النشر "الزهراء للإعلام