مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 413
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 389 سے غلط ثابت کیا اور بتایا کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتاب ہماری ہدایت کے لئے آئی ہے تو چاہئے کہ جو کچھ وہ ہمیں منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہو اور جن دلائل کی وجہ سے منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہوں۔کیونکہ اگر خدا کا کلام دعوے اور دلائل دونوں سے خالی ہے تو پھر اس کا ہمیں کیا فائدہ؟ اور اگر دعوی بھی ہم پیش کرتے ہیں اور دلائل بھی ہم ہی ای دیتے ہیں تو پھر اللہ کے کلام کا کیا فائدہ؟ اور ہمارا مذہب اللہ کا دین کہلانے کا کب مستحق ہے؟ پس ضروری ہے کہ مذہبی تحقیق کے وقت یہ امر مد نظر رکھا جائے کہ آسمانی مذاہب کے مدعی جو دعوئی اپنے مذہب کی طرف سے پیش کریں وہ بھی ان کی آسمانی کتب سے ہو اور جو دلائل دیں وہ بھی انہی کی کتب سے ہوں غرض غیر مذاہب کے لوگ اس اصل کو نہ رد کر سکتے تھے کیونکہ ان کے رد کرنے کے یہ معنی تھے کہ ان کے مذہب بالکل ناقص اور ردی ہیں اور نہ قبول رسکتے تھے کیونکہ۔۔۔۔جب اس اصل کے ماتحت دوسرے مذاہب کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ قریباً نوے فیصدی ان کے دعوے ایسے تھے جو ان کی الہامی کتب میں نہیں پائے جاتے تھے۔پھر آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم تمام اصول اسلام کو خود پیش کرتا ہے اور ان کی سچائی کے دلائل بھی دیتا ہے۔اور اس کے ثبوت میں آپ نے سینکڑوں مسائل کے متعلق قرآن کریم کا دعوئی اور اس کے دلائل پیش کر کے اپنی بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا اور دشمنان اسلام آپ کے مقابلہ سے بالکل عاجز آ گئے۔یہ علم کلام ایسا مکمل اور اعلیٰ ہے کہ نہ اس کا انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کی موجودگی میں جھوٹ کی تائید کی جاسکتی ہے۔( دعوة الأمیر ، انوار العلوم جلد 7 صفحہ 444 تا 446) اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار غیر از جماعت منصف مزاج علماء ومحققین نے بھی کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اخبار کرزن گزٹ کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی صاحب نے 1/6/1908 کی اشاعت میں لکھا: "مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ