مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 412
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 388 قسم کے معتقدات اور خیالات کو حق کا معیار قرار دیا ہے اور پھر قرآن وحدیث کو زبردستی کھینچ تان کر ان سے ملا دیا ہے۔پہلا کورانہ تقلید اور دوسرا تقلیدی اجتہاد ہے۔علم الکلام صفحہ 8 بحوالہ کسر صلیب تالیف عطاء المجیب راشد صاحب صفحه 21) پھر لکھتے ہیں کہ: عباسیوں کے زمانہ میں اسلام کو جس خطرہ کا سامنا ہوا تھا آج اس سے کچھ بڑھ کر اندیشہ ہے۔مغربی علوم گھر گھر پھیل گئے ہیں اور آزادی کا یہ عالم ہے کہ پہلے زمانہ میں عموما بھونچال سا آ گیا ہے۔نئے تعلیم یافتہ بالکل مرعوب ہو گئے ہیں۔قدیم علماء عزلت کے دریچہ سے کبھی سر نکال کر دیکھتے ہیں تو مذہب کا افق غبار آلود نظر آتا ہے۔ہر طرف سے صدائیں آ رہی ہیں کہ پھر ایک نئے علم کلام کی ضرورت ہے۔اس ضرورت کو سب نے تسلیم کیا ہے۔علم الکلام صفحہ 4 بحوالہ کسر صلیب تالیف عطاء المحجیب راشد صاحب صفحه 22) ایسی صورتحال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریف لا کر ایک ایسے علم کلام کی بنیاد رکھی جس کی جڑیں قرآن کریم میں ملتی ہیں اور عقل سلیم و منطق صحیح اس کی تائید کرتے ہیں۔اس کی بات کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نہایت حسین پیرائے میں یوں بیان فرمایا ہے: ”آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ناقل ) نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے رائج الوقت علم کلام کو بالکل بدل دیا اور اس کے ایسے اصول مقرر فرمائے کہ نہ تو دشمن انکار کر سکتا ہے اور نہ ان کے مطابق وہ اسلام کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے۔اگر وہ ان اصولوں کو رد کرتا ہے تب بھی مرتا ہے اور اگر قبول کرتا ہے تب بھی مرتا ہے۔نہ فرار میں اسے نجات نظر آتی ہے نہ مقابلے میں حفاظت۔آپ سے پہلے تنقید اور مباحثے کا یہ طریق تھا کہ ایک فریق دوسرے فریق پر جو چاہتا اعتراض کرتا چلا جاتا تھا اور اپنی نسبت جو کچھ چاہتا تھا کہتا چلا جاتا تھا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب مناظرہ کا میدان غیر محدود ہو جائے تو مناظرہ کا نتیجہ کچھ نہیں نکل سکتا۔پہلے یہ طریق تھا کہ ہر شخص کو جو بات اچھی معلوم ہوئی خواہ کسی کتاب میں پڑھی ہو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دی اور کہ دیا کہ دیکھو ہمارے مذہب کی تعلیم کیسی اچھی ہے۔گویا اصل مذہب کے متعلق گفتگو ہی نہ ہوتی تھی بلکہ علماء اور مباحثین کے ذاتی خیالات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ متلاشیان حق کو فیصلہ کرنے کا موقع نہ ملتا تھا۔آپ نے آ کر اس طریق مباحثہ کو خوب وضاحت