مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 342
322 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سے اللہ تعالیٰ کے اختیار و اصطفاء کی بناء پر امام مہدی کی اتباع کرنے پر تیار ہیں تو یہ سوال سرے کی سے ختم ہو جاتا ہے کہ عرب کیوں اس کی پیروی کریں؟ کیونکہ ایسی صورت میں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ جب اللہ اپنا اختیار واصطفاء عرب سے فرمائے گا اس وقت غیر عرب اس کی پیروی کیوں کریں؟ اور پھر یہ سوال چودہ سو سال قبل اٹھایا جانا چاہئے تھا، خصوصا اس لئے بھی جبکہ حقیقت میں غیر عرب زیادہ ترقی یافتہ، زیادہ تہذیب یافته، زیادہ تعلیم یافتہ ، اور ایک زبر دست تاریخ کے حامل تھے۔عرب کے دائیں بائیں بڑی عظیم مملکتیں آباد تھیں ایک طرف فارس اور دوسری طرف روم کی حکومتیں آباد تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے نبی نہ چنا۔کیا مذکورہ منطق کے تحت ان کا حق نہ بنتا تھا کہ سوال کرتے کہ ہم میں سے کیوں نبی نہیں آیا اور ہم کیوں عرب کے نبی کی پیروی کریں؟۔اب بتائیں کہ کیا یہ سوال جائز ہے؟ اگر نہیں، تو پھر نہ پہلے تھا نہ آج ہے۔یہ تو سوال ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی آکر اسلامی تعلیمات میں ہی تبدیلی کر کے پیش کرے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو بدل دے تو ہم اس کی پیروی کیوں کریں؟ ایسے شخص کے بارہ میں میرا جواب بھی یہی ہے کہ اس کی پیروی اور اس کی مدد و نصرت کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔اگر وہ شخص خدا کے نزدیک جھوٹا ہوا تو اللہ خود ہی اس کا سد باب فرما دے گا۔اس کے خلاف تمہیں کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب فرعون کے لوگ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے منصوبے بنانے لگے تو اس کی قوم کے ایک شخص نے بڑی حکمت کی بات کی۔اس نے کہا: (إِنْ يَكُ كَاذِبَاً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ) کہ اگر تمہارے خیال میں یہ جھوٹا ہے تو اس کا وبال اس پر پڑے گا تمہیں قتل کے منصوبے بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔لیکن اگر یہ سچا ہے تو پھر جو وہ تمہارے متعلق پیشگوئیاں کرتا ہے وہ ضرور پوری ہو جائیں گی۔یہ وہ سنہری اصول ہے جو ہمیں قرآن کریم نے بتایا ہے۔اب اگر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آپ کے نزدیک اپنے دعوے اور تعلیم کے لحاظ سے اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں تو آپ کا کام نہیں کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ اکیلا ہی اس کے لئے کافی ہے۔لیکن اگر آپ قرآن کی طرف بلا -