مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 341 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 341

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 321 کی اور بڑی قربانیاں دیں، لیکن یہ سب کچھ انہوں نے محض عربوں کی خاطر نہیں کیا بلکہ اسلام کے عظیم پیغام کی خاطر کیا۔اگر یہ بات درست ہے تو کیا اگر کوئی شخص یا کوئی اور قوم اسی پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں سب پر سبقت لے جانے والی ہو تو عرب صرف اس خیال سے پیچھے بیٹھے رہیں گے کہ یہ شخص عربی نہیں ہے؟ اگر اللہ مستقبل میں اسلام کے پھیلانے کیلئے ایک غیر عرب کو چن لیتا ہے تو تمہارا موقف کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اسلام عربی ہے؟ اور کیا ان کا اس حجت پر پیچھے بیٹھے رہنے کا کوئی جواز ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اب غلبہ اسلام کی مہم ایک غیر عربی کے سپر د کر دی ہے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ ایسا کہیں گے تو اس کے پس پردہ محرکات کھل کر سامنے آجائیں گے۔اس کا جواب پہلے سے ہی قرآن کریم میں دیا جا چکا ہے: (أَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَةَ رَبِّكَ) کیا وہ خدا کی رحمت کو تقسیم کر سکتے ہیں؟ یہی سوال قبل ازیں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا جاچکا ہے جب خود عربوں نے کہا: (لَوْ لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِیم) کہ یہ قرآن ان دو عظیم بستیوں کے کسی اعلیٰ درجہ کے شخص پر کیوں نہ نازل ہو گیا۔یہ کوئی نیا اعتراض نہیں جو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی کیا گیا بلکہ جب بھی کوئی رسول خدا تعالیٰ نے بھیجا تو مخالفین کی طرف سے یہی سوال اٹھایا گیا کہ آخر اس کو ہی کیوں چنا گیا؟ اور ہمیں کیوں نہ چنا گیا؟ چنانچہ اس مسئلے کا تعلق چننے سے ہے۔کیا مبعوث کو چنے کا اختیار انسانوں کا ہے یا خدا کا؟ اگر انسانوں کا اختیار ہوتا تو کسی نبی کا انکار نہ کیا جاتا۔کیا نوح علیہ السلام کا انکار نہ کیا گیا ؟ کیا ابراہیم جس کو امام بنایا گیا اس کا انکار نہ کیا گیا؟ آخر یہ سوال کیوں کیا جاتا ہے؟ اسکا جواب یہ ہے کہ یہ محض انسانوں کے تکبر اور ان کی خود پسندی اور عجب کا نتیجہ ہے۔کیونکہ انسان کی اندر یہ بات ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے اور ہر چیز کو اپنے زیر تصرف کر کے اپنی خدائی نافذ کرنا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ ان کا یہ غرور توڑنے کے لئے ان لوگوں میں سے اپنا رسول چنتا ہے جن کو یہ لوگ اپنے تکبر کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی چنیدہ شخصیات کے بارہ میں نسلی بنیادوں پر اس طرح کے اعتراضات ہر زمانے میں اٹھتے رہے ہیں کہ ان میں سے کیوں؟ اور ان میں سے کیوں نہیں؟ اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ سوال کرنے والے کے ذہن میں کیا ہے؟ اگر آج ہم صدق دل