مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 333
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 313 وہ دنیا کے لیڈر بنائے گئے۔حتی کہ ان کے بڑے ادنی ادنی افراد کو اعلیٰ ترین مناصب و اعزاز عطا ہوئے۔لیکن انہوں نے قربانیاں ان مناصب کے حصول کے لئے نہیں دی تھیں بلکہ انہیں تو اسلام کی تائید و نصرت میں ان امور کی کچھ پرواہ ہی نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں ان چیزوں میں کوئی طمع نہیں ہے اس لئے میں یہ سب کچھ تمہیں عطا کرتا ہوں اور تمہاری تائید ونصرت کرتا ہوں۔پھر جب ان دنیاوی چیزوں میں طمع پیدا ہونا شروع ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں واپس لے لیں۔عظمتیں تو خدا کے فضل کے نشان کے طور پر آتی ہیں اور اس حد تک ان دنیاوی نعمتوں پر خوش ہونا جائز ہے۔میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آپ ان دنیاوی عظمتوں کے حصول کے لئے احمدیت قبول کریں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی محبت کے لئے قبول کریں۔اگر آج بھی عربوں نے انہیں سابقہ امور کو روا رکھا تو آج بھی خدائی تائید و نصرت ان کے ساتھ ہوگی۔پس اولین میں بھی تم اسلام کی تائید و نصرت کرنے والے پہلے لوگ تھے اور اسی جذبہ کے ساتھ آخرین میں بھی پہلے بن سکتے ہو۔اگر تم اسلام کے ساتھ چمٹتے ہوئے اس زمانہ کے امام پر ایمان لاؤ گے اور اس کی اطاعت میں فنا ہو جاؤ گے اور اس کی تائید و نصرت میں کھڑے ہو جاؤ گے تو تمہیں تمہاری عظمت رفتہ واپس مل جائے گی۔(لقاء مع العرب بتاریخ 2 جنوری 1996 ء ) عربوں کے رد عمل کا ذکر 1۔اٹلی میں رہنے والے ایک مراکشی شخص کا خط موصول ہوا جس میں اس نے لکھا کہ میں نام کا مسلمان تھا، بلکہ وہ اسلام جو آباء واجداد سے مجھے ورثہ میں ملا تھا اس سے میں بیزار ہو چکا تھا۔ایک دن اتفاقا ایم ٹی اے دیکھا، اور میں حیران ہو گیا کہ یہ کیسا عظیم اسلام پیش کیا جارہا ہے جو قلب و دماغ کو مطمئن کرنے والا ہے۔میں جتنا جتنا ایم ٹی اے دیکھتا گیا میری پیاس بڑھتی گئی۔مجھے آپ کی تفسیر قرآن بہت پسند ہے۔براہ کرم مجھے تفسیر کبیر ارسال کریں۔حضور نے فرمایا کہ ہم ان کو انکی مطلوبہ کتب ارسال کر رہے ہیں۔الحمد للہ کہ اب یہ تبدیلی ہر جگہ ہو رہی ہے۔اور اسکے بارہ میں بعض اوقات خود عرب لکھ رہے ہیں اور بعض اوقات عربوں کی نمائندگی میں احمدی لکھ رہے ہیں۔