مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 325
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 305 گیا اور اتنی عظمت اور جبروت حاصل کی ) آؤ ہم بھی اس کے نمونے پر چلیں تو پھر تم نے سیاست کی ہلاکت کا اسی دن فیصلہ کر لیا اور تم اگر کسی قوم کے راہنما ہوئے تو تم پر یہ مثال صادق آئیگی کہ:۔إذا كان الغراب دليل قوم سيهديهم طريق الهالكين کہ دیکھو جب کبھی بھی کوے قوم کی سرداری کیا کرتے ہیں تو ان کو ہلاکت کے رستوں کی طرف لے جاتے ہیں۔پس نیتوں کی اصلاح کرو اور یہ فیصلے کرو کہ جو کچھ گزر چکا گزر چکا ، آئندہ سے تم قوم کی سرداری کے حقوق ادا کرو گے، سرداری کے حقوق اس طرح ادا کرو جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عالم کی سرداری کے حق ادا کئے تھے وہی ایک رستہ ہے سرداری کے حق ادا کرنے کا۔اسکے سوا اور کوئی رستہ نہیں۔حضرت عمرؓ جب بستر علالت پر آخری گھڑیوں تک پہنچے اور قریب تھا کہ دم توڑ دیں تو بڑی بے چینی اور بے قراری سے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! اگر میری کچھ نیکیاں ہیں تو بے شک ان کو چھوڑ دے۔میں ان کے بدلے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر میری غلطیوں پر پرسش نہ فرمانا۔مجھ میں یہ طاقت ہی نہیں کہ میں اپنی غلطیوں کا حساب دے سکوں۔یہ وہ روح ہے جو اسلامی سیاست کی روح ہے اس روح کی آج مسلمانوں کو ضرورت ہے۔اور غیر مسلموں کو بھی ضرورت ہے۔آج کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ سیاست کی اس روح کو زندہ کر دو تا مرتی ہوئی انسانیت زندہ ہو جائے۔یہ روح زندہ رہی تو جنگوں پر موت آجائیگی ، لیکن اگر یہ روح مرنے دی گئی اور جنگیں پھر زندہ ہوگئیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت جنگوں کو موت کے گھاٹ اتار نہیں سکتی۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مارچ 1991ء) اس دردناک واقعہ سے سبق خلیج کی جنگ کے اس دردناک واقعہ میں ہمارے لئے بہت گہرے سبق ہیں اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ پائیدار اور ناقابل تسخیر اصولوں کی طرف لازما لوٹنا ہوگا۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے حق میں یہ وعدہ پورا نہیں ہو گا کہ ارض کے اوپر خدا کے