مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 315 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 315

295 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کی اخلاقی زیادتیاں ہوئی ہیں جو بہت ہی خطرناک ہیں۔ایک یہ کہ یونائٹڈ نیشنز نے ہرگز کھانے پینے کی اور ضروریات زندگی کی اشیاء کو بائیکاٹ میں شامل نہیں کیا تھا۔دوسرے یونائیٹڈ نیشنز نے ہرگز یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اگر کوئی ملک بائیکاٹ نہ کرنا چاہے تو اسے زبر دستی بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جائے۔اب ان دونوں باتوں میں امریکہ بھی اور انگلستان بھی کھلی کھلی دھاندلی کر رہے ہیں۔ایک طرف عراق پر بد اخلاقی کا الزام ہے جو ہم مانتے ہیں کہ اسلامی نقطہء نظر کی سے بد اخلاقی ہے لیکن دوسری طرف خود ایک ایسی خوفناک بداخلاقی کے مرتکب ہوتے ہیں جو بظاہر ڈپلومیسی کی زبان میں لپٹی ہوئی ہے۔۔امر واقعہ یہ ہے کہ بغداد کی حکومت نے جو چار ہزار انگریز اور دو ہزار امریکن کو پکڑ کر اپنے پاس Hostages کے طور پر رکھا ہوا ہے اگر ان کو بالآخر خدانخواستہ ظالمانہ طور پر وہ ہلاک بھی کر دے تو بھی یہ ظلم جو انگریز اور امریکہ مل کر عراق پر کر رہے ہیں یہ اس سے بہت زیادہ بھیانک جرم ہے۔۔۔جہاں تک عراق کا تعلق ہے ان کے لئے سب سے پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی اخلاق کو مجروح نہ کریں اور زیادہ دنیا میں اسلام کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں۔وہ غیر ملکی جوان کی پناہ میں ہیں خواہ ان کا تعلق امریکہ سے ہو یا انگلستان سے ہو یا پاکستان سے ہو ان کو کھلی آزادی دیں کہ جہاں چاہو جاؤ، ہمارا تم پر کوئی حق نہیں ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے ہر غیر ملکی اس ملک میں امانت ہوا کرتا ہے جس میں وہ کسی وجہ سے جاتا ہے۔خواہ اس ملک کی اس غیر ملکی کے ملک سے لڑائی بھی چھڑ جائے تب بھی وہ امانت رہتا ہے۔پس اس امانت کی میں خیانت کا نہایت ہولناک نتیجہ نکلے گا۔ان کی انتقام کی آگ جو پہلے ہی بھڑک رہی ہے وہ کی اتنی شدت اختیار کر جائے گی کہ وہ لکھوکھا معصوم مسلمانوں کو بھسم کر کے رکھ دے گی۔حکومت کے سر براہ اور اس سے تعلق رکھنے والے تو چند لوگ ہیں، جو مارے جائیں گے وہ مسلمان معصوم عوام مارے جائیں گے، جنگ کے ایندھن بھی وہی بنیں گے۔اور جنگ کے بعد کے انتظامات کا نشانہ بھی انہیں کو بنایا جائے گا۔اس لئے سوائے اس کے کہ عراق کی حکومت تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اسلامی تعلیم کی طرف لوٹے ، اس کے لئے امن کی کوئی راہ کھل نہیں سکتی۔عراق یہ قدم اٹھائے اور دوسرے عالم اسلام کو یہ پیغام دے کہ میں پوری طرح تیار ہوں تم جو فیصلہ کرو میں