مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 314 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 314

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 294 جو ان کے نزدیک شرارت کر رہا ہو اور پھر انصاف کے ساتھ ان دونوں کے معاملات سن کر صلح کرانے کی کوشش کریں اگر اس کے باوجود صلح نہ ہو اور ایک دوسرے پر حملہ سے باز نہ آئے تو یہ مسلمان ممالک کا کام ہے کہ وہ اس ایک ملک کا مقابلہ کریں اور اس میں غیروں سے مدد کا کہیں ذکر نہیں فرمایا گیا۔اگر اس تعلیم کو پیش نظر رکھا جاتا تو یہ حالات جو آج بد سے بدتر صورت اختیار کر چکے ہیں اور نہایت ہی خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں ان کی بالکل اور ان کیفیت ہوتی۔“ رغمالیوں کے بارہ میں عراق کی راہنمائی خطبه جمعه فرموده 17 اگست 1990 ء ) " حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور اس زندگی میں ہونے والے تمام غزوات گواہ ہیں کہ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جس قوم کے ساتھ اسلام کی فوجیں برسر پیکار تھیں ان کے آدمی جو مسلمانوں کے قبضہ قدرت میں تھے ان سے ایک ادنی بھی زیادتی ہوئی ہو۔وہ کلیہ آزاد تھے۔جس طرح چاہتے زندگی بسر کرتے اور کسی ایک شخص نے بھی ان پر کبھی کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ اسلام تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر کوئی پناہ مانگتا ہے تو خواہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھنے والا ہو اس کو پناہ دو لیکن عراق نے اسلام کے اس اخلاق کے پیمانے کو کلیۂ نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام برٹش قوم سے تعلق رکھنے والے جو کسی حیثیت سے کویت میں یا عراق میں زندگی بسر کر رہے تھے اور تمام امریکن جوان علاقوں میں موجود تھے ان کو نہ ملک چھوڑنے کی اجازت ہے نہ اپنے گھرں میں رہنے کی اجازت ہے۔وہ فلاں فلاں ہوٹل میں اکٹھے ہو جا ئیں۔اسی طرح دیگر غیر ملکیوں کو بھی جو اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔اب ظاہر ہے کہ جس طرح یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے انکو Hostages کے طور استعمال کیا جائے گا۔اب یہ بات اپنی ذات میں کلیتہ اسلامی اخلاق تو در کنار دنیا کے عام مروجہ اخلاق کے بھی خلاف ہے۔اس لئے اخلاق ہیں کہاں؟ اب حال ہی میں یہ جو یونا یکیٹڈ نید کے ریزولیوشنز کو بہانہ بنا کر تمام طرف سے عراق کا Blockade کیا گیا یعنی فوجی اقدام کے ذریعے عراق میں چیزوں کا داخلہ بند کیا گیا اور وہاں سے چیزوں کا نکلنا بند کیا گیا اس میں دو قسم