مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 313 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 313

293 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم باتیں جو بعد میں لکھنی ہیں آج ہمیں دکھائی دے رہی ہیں کہ یہ کل رونما ہونے والی ہیں۔اگر مسلمان ممالک نے ہوش نہ کی اور بروقت اپنے غلط اقدامات کو واپس نہ لیا اور اپنی سوچوں کی اصلاح نہ کی اور اگر یہ انہی باتوں پر قائم رہے تو عراق مٹتا ہے یا نہیں ملتا، یہ تو کل کی دیکھنے کی بات ہے مگر اس سارے علاقے کا امن ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا اور کبھی عرب اپنی پہلی حالت کی طرف دوبارہ واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔اسرائیل پہلے سے بڑھ کر طاقت بن کر ابھرے گا اور اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے متعلق کوئی عرب طاقت لمبے عرصہ تک سوچ بھی نہیں سکے گی۔اسکے نتیجہ میں تمام دنیا میں شدید مالی بحران پیدا ہوں گے۔اور چونکہ آج کل دنیا کے ترقی یافتہ ممالک خود مالی بحران کا شکار ہیں اس لئے تیسری دنیا کے مالی بحران کے نتیجے میں ایسے اثرات پیدا ہوں گے کہ اور جنگیں چھڑیں گی اور دنیا کا امن دن بدن بر باد ہوتا چلا جائے گا۔اگر آج مسلمان ممالک نے اصلاح احوال نہ کی تو مختصرا یہ کچھ ہے جو آئندہ پیش آنے والا ہے۔“ خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 1991ء) کیا بعد کے واقعات اور آج کی عالمی صورتحال یہی نقشہ پیش نہیں کر رہی جو آج سے قریباً 20 سال قبل حضور انور نے بیان فرمایا تھا؟ تنازعات کے حل کے بارہ میں اسلامی تعلیم مسلمانوں کے رد عمل کا جہاں تک حال ہے یہ ایک نہایت ہی خوفناک اور افسوسناک رد عمل ہے۔قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ : فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْ ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَيْ اللهِ وَالرَّسُول (سورۃ النساء آیت: 60) جب تم آپس میں اختلاف کیا کرو تو محفوظ طریق کار یہی ہے اور اسی میں امن ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی طرف بات کو لوٹایا کرو۔قرآن اور سنت جس طرف چلنے کا مشورہ دیں اسی طرف چلو اسی میں تمہارا امن ہے اور اسی میں تمہاری بقاء ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ دنیا کے سیاستدانوں کے ساتھ جوڑ تو ڑ کر کے اپنے معاملات طے کرنے کی کوشش کرو، قرآنی تعلیم کی طرف لوٹو۔۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ صرف ایک قوم کے مسلمان نہیں بلکہ ہر ایسے جھگڑے کے وقت جس میں دو مسلمان ممالک ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہونے والے ہوں تمام مسلمان ممالک اکٹھے ہو کر سر جوڑ کر اس ایک ملک پر دباؤ ڈالیں