مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 312 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 312

مصالح العرب۔جلد دوم یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا 292 ہماری تو ایک درویشانہ اپیل ہے، ایک غریبانہ نصیحت ہے اگر کوئی دل سے اسے سنے اور سمجھے اور قبول کرے تو اس کا اس میں فائدہ ہے کیونکہ یہ قرآنی تعلیم ہے جو میں پیش کر رہا ہوں اور اگر تکبر اور رعونت کی راہ سے ہماری اس نصیحت کو رڈ کر دیا گیا تو میں آج آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اتنے بڑے خطرات عالم اسلام کو در پیش ہونے والے ہیں پھر مدتوں تک سارا عالم اسلام نوحہ کناں رہے گا۔اور روتا رہے گا، اور دیواروں سے سر ٹکراتا رہے گا اور کوئی چارہ پیش نہیں جائیگا کہ اپنی ان کھوئی ہوئی طاقتوں اور وقار کو حاصل کر لے جو اس وقت عالم اسلام کا دنیا میں بن رہا ہے اور مزید بن سکتا ہے۔عملاً اس وقت مسلمان ممالک ایک ایسی منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے اگر خاموشی اور حکمت کے ساتھ اور فساد مچائے بغیر وہ قدم آگے بڑھائیں تو اگلے دس یا پندرہ سال کے اندر عالم اسلام اتنی بڑی طاقت بن سکتا ہے کہ غیر اس کو ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکیں گے اور چاہیں بھی تو ان کی پیش نہیں جائے گی۔اور اگر آج ٹھو کر کھائی ، آج غلطی کی تو ایک ایسی خطر ناک منزل ہے کہ یہاں سے پھر ٹھوکر کھا کر ایک ایسی غار اور ایسی تباہی کے گڑھے میں بھی گر سکتے ہیں جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں رہے گی۔“ کل رونما ہونے والی باتیں (خطبه جمعه فرموده 17 راگست 1990ء) دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمان ممالک کو اب بھی عقل دے اور وہ اس ظلم میں غیر مسلم قوموں کے شریک نہ بنیں اور اس بات کے روادار نہ ہوں کہ۔۔۔تاریخ عالم میں ہمیشہ کے لئے ایک ایسی قوم کے طور پر لکھے جائیں جنہوں نے اپنی زندگی کے نہایت منحوس فیصلے کئے تھے۔ایسے فیصلے کئے تھے جو بدترین سیاہی سے لکھے جانے کے لائق بنتے ہیں۔جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر ایسے تغیرات برپا ہونے ہیں اور آئندہ لکھنے والا لکھے گا کہ ایسے تغیرات بر پا ہو چکے ہیں کہ ان فیصلوں کے بعد پھر دنیا کا امن ہمیشہ کے لئے اٹھ گیا اور امن کے نام پر جو جنگ لڑی گئی تھی اس نے اور جنگوں کو جنم دیا اور ساری دنیا میں بدامنی پھیلتی چلی گئی۔مؤرخ نے یہ