مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 307
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 287 میں امرود کا جوس لے کر تشریف لائے۔میں سراپا حیرت بنا سوچ رہا تھا کہ یہ کتنا عظیم انسان ہے جو اپنے ادنی خدام کو بھی اس قدر پیار اور شفقت کے ساتھ نواز رہا ہے کہ ایک گلاس ختم ہوتا ہے تو وہ آگے بڑھ کر اسکے گلاس میں اور جوس ڈال دیتا ہے۔قافلے لے چلا ہوں یادوں کے ہمیں سیریا سے 1999 ء اور 2000ء کے جلسہ سالانہ یو کے میں شرکت کی توفیق ملی۔2000ء میں ہی ہماری پڑھائی مکمل ہوگئی اور اسکے بعد پاکستان واپس جانے کا ارشاد ہوا۔اس لحاظ سے بظاہر یہ خلیفہ وقت سے ملنے کا آخری موقع تھا۔انہی جذبات کو خاکسار نے ٹوٹے پھوٹے شعروں کی صورت میں حضور انور کی خدمت میں پیش کر دیا۔میرا خیال تھا کہ جلسہ سالانہ کی مصروفیات کی وجہ سے اسکا جواب مجھے شاید پاکستان میں ہی ارسال کیا جائے گا۔لیکن اگلے دن ہی محترم منیر جاوید صاحب نے بتایا کہ حضور انور نے آپ کی نظم کو پسند فرمایا ہے۔پھر جب مجھے حضور انور کی طرف سے تحریری جواب ملا تو عمومی طور پر پسندیدگی کے اظہار کے ساتھ حضور انور نے فرمایا تھا کہ یہ شعر بہت عمدہ ہے“: قافلے لے چلا ہوں یادوں کے مجھ تنہا سفر نہیں ہوتا ازاں بعد جب چند ماہ بعد یہ نظم رسالہ خالد میں چھپی اور حضور انور کی نظر سے گزری تو حضور کی طرف سے دوبارہ حوصلہ افزائی کا خط موصول ہوا جس میں حضور انور نے ایک شعر کی صحیح فرما کر اس عاجز غلام کو نواز دیا۔فالحمد للہ علی ذلک۔عربی زبان کی تعلیم کے بعد 2001ء میں خاکسار کی تقرری عربک ڈیسک میں ہوگئی اور اس وقت سے آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے مفوضہ امور کی انجام دہی کی توفیق مل رہی ہے۔الحمد للہ۔مکرم محمد احمد نعیم صاحب کی تقرری جامعہ احمدیہ یو کے میں 2006 میں ہوئی ، بعد میں دسمبر 2008ء میں آپ کا تبادلہ عربک ڈیسک میں ہو گیا۔