مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 306 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 306

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 286 حیران رہ گئے کہ برین میں آپریشن کا نشان تک مٹ گیا تھا۔بہر حال اس علاج کے بعد چند ماہ کی بجائے آپ تقریباً دو سال زندہ رہے اور بالآخر بیماری کے شدید حملہ کی وجہ سے شاید 45 سال کی عمر میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔مکرم نذیر المرادنی صاحب آپ محترم منیر الحصنی صاحب کی وفات کے بعد شام کے امیر مقرر ہوئے لیکن 1989ء میں جماعت پر پابندیاں لگ گئیں اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اب آپ اصحاب الکہف والرقیم کی طرح تالیف و تصنیف کی طرف توجہ دیں۔چنانچہ مکرم نذر صاحب نے متعدد اختلافی موضوعات پر کئی کتابیں لکھیں جو وہاں پر شائع بھی ہو گئیں۔جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ آپ کو بھی 1996 ء کے جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔آپ اس جلسہ پر حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ بتائے ہوئے بعض لمحات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : حضور نے ملاقات میں معانقہ کا شرف بخشا اور مجھے ایسے لگا جیسے مجھ سے زیادہ شدت کے ساتھ حضور انور مجھے اپنے سینے سے لگا رہے تھے۔پھر حضور نے فرمایا: آپ نے آنے میں کافی دیر کی ، آپ کو تو کافی عرصہ پہلے آجانا چاہئے تھا۔جلسہ کے بعد حضور انور نے ایک دعوت میں ہمیں بھی مدعو فر مایا۔میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھنے لگا تو مکرم عطاء المجیب راشد صاحب نے بتایا کہ حضور انور نے آپ کو مرکزی ٹیبل پر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔جب حضور انور تشریف لائے اور کھانا شروع ہوا تو میرے دل میں خیال گزرا کہ حضور انور کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کروں لیکن جب میں نے دیکھنے کے لئے نظریں اٹھا ئیں تو دیکھا کہ حضور انور میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔واپسی سے قبل ہم نے چاہا کہ حضور انور سے الوداعی ملاقات ہو جائے۔ہمیں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ حضور انور اس وقت پروگرام ”لقاء مع العرب میں تشریف فرما ہیں تاہم میں حضور انور کی خدمت میں عرض کئے دیتا ہوں۔حضور انور کو اطلاع ہوئی تو حضور خود باہر تشریف لائے ، معانقہ کا شرف بخشا اور ہمیں پروگرام میں لے گئے۔اور خود اپنے دفتر سے جگ