مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 295
مصالح العرب۔جلد دوم عصر حاضر کے عرب اور عربی زبان 275 سیر یا جانے سے قبل ہمارے ذہنوں میں یہ تصور تھا کہ وہاں لوگ قسطی عربی بولتے ہوں گے اور ہم جہاں بھی جائیں گے اور جس کے ساتھ بولیں گے ہماری عربی کی پریکٹس ہوتی جائے گی اور زبان صیقل ہوتی رہے گی۔لیکن ابتدائی ایام میں ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ تصور غلط تھا۔قومی اور دفاتر کی رسمی زبان فصیحی عربی ہونے کے باوجود وہاں ہر شخص عامیہ یعنی اصل عربی زبان کا بگاڑا ہوا لوکل لہجہ استعمال کرتا تھا اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اس نہج پر چل رہا تھا۔ہمیں یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوتی تھی۔کئی دفعہ ہم بولنے والے سے کہہ بھی دیتے تھے کہ ہمارے ساتھ صحیح عربی میں بات کریں۔چنانچہ ہماری اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہ صحی عربی بولنا شروع کر دیتا تھا اور شاید یہ سمجھ رہا ہوتا تھا کہ وہ نہایت فصیح عربی بولے جا رہا ہے جبکہ در حقیقت محض ایک دو جملوں کے بعد وہ ہماری درخواست بھول کر اپنی لوکل زبان بولنا شروع کر دیتا تھا۔اور راگر کبھی ہم دوبارہ یاد کروانے کی جرات کر لیتے تو ان میں سے کئی کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ہم فصیحی عربی ہی تو بول رہے ہیں۔افسوس کہ ایسی کوئی جگہ نہیں اس تجربہ کے باوجود ہمارا خیال تھا کہ کئی ایک ایسے مقامات ہوں گے جہاں پر ابھی بھی فصیح عربی بولنے والے پائے جاتے ہوں گے۔لہذا ابتدائی ایام میں ہی میں نے اپنی ٹیچر سے پوچھا کہ مجھے دمشق میں کوئی ایسی جگہ بتائیں جہاں پر لوگ فصیح عربی بولتے ہوں تا کہ میں روزانہ وہاں جا کر کچھ وقت بتاؤں اور عربی سننے اور بولنے کی پریکٹس کر سکوں۔وہ میری اس عجیب وغریب درخواست پر حیران رہ گئی اور کہنے لگی: افسوس کہ دمشق میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے۔پھر اس نے بتایا کہ دمشق شہر کے وسط میں ضلعی دفاتر کے قریب ایک کیفے متقی الہافا نا ہے اس میں کسی زمانہ میں ادیب اور شعراء آکر بیٹھا کرتے تھے اور اکثر اوقات آپس میں فصیح عربی زبان میں گفتگو کرتے تھے۔لیکن مجھے پتہ نہیں کہ ابھی تک ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔ایک دن خاکسار اور محترم نوید احمد سعید صاحب اس کیفے میں گئے جہاں پر ایک چائے کے کپ کی قیمت شاید 70