مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 290 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 290

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کی بات تو منطقی ہے لیکن تمام علماء کا تو یہی فتویٰ ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔270 میں نے عرض کیا کہ میں نے اپنی طرف سے کوئی بات پیش نہیں کی۔میں نے تو قرآن کریم کی آیت پیش کی ہے، اب آپ کے سامنے ایک طرف علماء کا فتوی ہے ایک طرف قرآن کریم کا فرمان ہے، آپ خود فیصلہ کر لیں کہ آپ نے کس کی بات ماننی ہے۔نیز میں نے عرض کیا کہ اس غلط عقیدہ کے رد میں صرف یہ ایک ہی دلیل نہیں ہے بلکہ اگر آپ چاہیں تو میں اس موضوع پر آپ کو مزید مواد فراہم کر سکتا ہوں۔ان کی خواہش میں نے اگلے دن ہمارے سیرین احمدی مکرم محمد منیر ادبی صاحب کی کتاب و قتل المرتد انہیں لا کر دی۔ان کی یہ کتاب بنیادی طور پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی کتاب ”مذہب کے نام پر خون اور اس موضوع پر حضور کے دیگر لیکچرز سے ماخوذ ہے۔چند دنوں کے بعد میرے استاد نے یہ کتاب مکمل پڑھ کر جب مجھے واپس دی تو کہنے لگے کہ واقعی یہی درست رائے ہے جو نہایت منطقی اور مدلل ہے اور آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہی حقیقی اسلامی نقطۂ نظر ہے۔اسی طرح کے بعض دیگر امور کی وجہ سے استاد عرفان کے ساتھ ایک بہت اچھا احترام کا تعلق قائم ہو گیا تھا۔ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک عزیز ہے جو کسی عرب ملک میں چیف جسٹس بھی رہے ہیں انہوں نے اسلامی سزاؤں کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جو مختلف یو نیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کی جائے گی، اور میری خواہش ہے کہ آپ بھی اسے ایک دفعہ دیکھ کر اپنی رائے دیں۔مجھے اس کتاب کا مسودہ دے دیا گیا جس کو پڑھ کر میں نے متعدد مقامات پر اپنے مختصر نوٹس لکھ دیئے۔جب مؤلف نے ان کو پڑھا تو استاد عرفان سے کہا کہ میں اس شخص سے ملنا چاہتا ہوں۔اور یوں ایک دن استاد عرفان مجھے لے کر اس کے گھر پہنچ گئے۔اس نے بھی استاد عرفان کی طرح مجھے کہا کہ میں نے تو علماء کی متفق علیہ آراء کا ذکر کیا ہے لیکن آپ نے اپنے نوٹس میں آیات واحادیث کے حوالے سے مختلف رائے دی ہے۔اگر چہ نہ آپ کی بات بالکل درست ہے لیکن اگر میں اسے درج کر دوں تو نہ تو میری یہ کتاب ہی کسی کالج یا یونیورسٹی کے نصاب میں لگ سکے گی۔میں نے انہیں بھی وہی جواب دیا جو اس سے قبل استاد عرفان کو دیا تھا کہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی بات ماننی۔یا نام نہاد علماء کی۔