مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 276
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 258 بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأَرْضِ یعنی اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعہ ضرور اس کا رفع کرتے لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا۔لیکن میں دعا کرتا ہوں۔خدا سے بھاری امید ہے کہ وہ آپ کو اپنی تقوی اور رضا کی راہ پر ثابت قدم رکھے گا اور اس کی رضا کے لئے آپ قربانی کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے۔“ اک نشاں کافی ہے حضور انور کے ان کلمات مبارکہ نے اس بزرگ پر جادو کا سا اثر کیا۔چنانچہ ایڈیٹر التقوی کے نام اگلے خط میں انہوں نے لکھا: آپ کے لمبے عرصہ کے بعد ملنے والے خط سے بہت خوشی ہوئی اور اس سے بڑھ کر خوشی ہمارے روحانی معلم حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ جل شانہ کے جواب سے ہوئی۔ان کے کلمات مبارکہ واقعی ان کے مشن کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ان کے اس فرمان سے میں سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ انسان بعض دفعہ تھوڑے سے علم پر جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہوتا ہے مغرور ہو جاتا ہے اور سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں بڑا مقام اور شان رکھتا ہے۔واقعی میں آسمانی نور کا محتاج ہوں۔ہمیں ایک ایسے امام کی اشد ضرورت تھی جو صراط مستقیم کی طرف ہماری راہنمائی فرماتا۔جو باتیں سمجھنی مشکل ہیں وہ واضح فرماتا۔اہل الذکر کی طرف لوٹنا واجب ہے یعنی ایسے امام کی طرف جسے اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت اور عظیم روحانی درجہ عطا فرمایا ہو۔مومن کی یہ بڑی ہی خوش بختی ہے کہ وہ ایسے امام کی پیروی کرے جو اسے اس راہ کی طرف لے جائے جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے بنائی ہے۔حقیقت یہ ہے جس بات کی طرف بانی سلسلہ احمد یہ بلا رہے ہیں (خصوصاً بیعت کے الفاظ ) وہ عقل اور اس فطرت اسلام کے عین مطابق ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا ای ہے۔لہذا میں باوجود اپنی کم علمی کے اپنے آپ کو آپ کی طرف کھنچا ہوا پاتا ہوں تا آپ لوگوں میں شامل ہو جاؤں اور اس امام کی پیروی میں آجاؤں جسے اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے۔سوئیں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری یہ خواہش حضرت امام تک پہنچا دیں۔نیز اُن سے درخواست کریں کہ میرے لئے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے نور میں بڑھائے اور