مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 275 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 275

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 257 روحانی مفہوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام پر روشن کیا گیا ہے اس کی روشنی میں یہ سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں اور ایک نیا جہان روشن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ کہنا درست ہے کہ آدم اس دنیا میں ہی تھے جب خلیفہ بنائے گئے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ جنت میں نہیں تھے۔جنت اور شجرہ ممنوعہ کے متعلق میں بار ہا روشنی ڈال چکا ہوں کہ جنت دراصل وہ روحانی تعلیم ہے جو انبیاء لے کر آتے ہیں۔اس سے انحراف پہلے دنیاوی جہنم اور پھر اخروی جہنم پیدا کرتا ہے۔شجر ممنوعہ، شجرہ خبیثہ کی ہی قسم ہے یعنی خدا کی تعلیم سے باہر قدم رکھنا۔یہ درست ہے کہ انسان میں شر نہیں لیکن خیر سے باہر شر کا پہلو ہوتا ہے۔جو جس قدر خیر سے باہر ہو گا اس قدر شر میں ہوگا۔خیر اور شر کی مثال روشنی اور سائے کی سی ہے۔یہ سو فیصد درست ہے کہ انسان براہِ راست خدا سے رابطہ کر سکتا ہے۔اور یہ بھی بالکل درست ہے کہ ہر چیز خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے مسخر کی ہے۔قرآن کریم ہی حجت ہے اور احادیث وہی قابلِ قبول اور قابل استناد ہیں جو قرآن سے متناقض نہ ہوں۔۔۔۔۔۔تورات وانجیل کے متعلق آپ کے نظریہ سے بالکل اتفاق ہے۔۔۔۔صراط مستقیم ایک ہی ہو سکتی ہے، یہ درست ہے لیکن شروع سے لے کر تمام انبیاء صراط مستقیم پر ہی آئے ہیں۔اس لئے ان معنوں میں اس بات کا آپ کی اس بات سے تضاد نہیں کہ تو رات و انجیل پر بھی میرا ایمان ہے۔صراط مستقیم تو ایک ہی ہوگی لیکن وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا میں یہ پیغام ہے کہ ہر شخص جو تقویٰ سے خدا تعالیٰ کی طرف جانا شروع کرے اس کو خدا اپنے قرب کی مختلف را ہیں دکھاتا ہے۔آپ کے متعلق مجھے خوشی بھی ہے اور فکر بھی۔خوشی اس لئے کہ آپ کے اندر واضح طور پر صداقت و شرافت کی روشنی دکھائی دے رہی ہے۔اور فکر اس لئے کہ بعض دفعہ انسان خدا تعالیٰ کے تھوڑے سے فضل اور شفقت پر ٹھو کر کھا جاتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے اور خدا کے مقرر کردہ امام سے روگردانی کر بیٹھتا ہے۔اس صورت میں اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو ایسے ہی ایک شخص کا ہوا جس کے بارہ میں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ولَو شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ