مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 263
245 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم موقف بڑا مدلل اور واضح ہے۔یہ احمدی نوجوان عربی نہیں جانتا تھا مگر اس نے عربی لٹریچر بھجوانے کا وعدہ کیا۔بعد ازاں وہ عربی رسالہ ”التقوی“ کے بعض شمارے لایا۔مجھے اس رسالہ کا انداز بہت اچھا لگا ہے کیونکہ اس میں جدید سائنس اور وفات مسیح کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے مسلک میں حسین تطابق نظر آتا ہے۔براہ کرم مجھے مزید لٹریچر ارسال کریں شاید اللہ تعالیٰ میری صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائے۔نانا سے ایک مجلہ کے ایڈیٹر مکرم ابوبکری صاحب لکھتے ہیں۔اللہ کے نام سے میں شروع کرتا ہوں اور محبت کے نام سے لکھتا ہوں اور پیار کے نام سے تحریر کرتا ہوں۔میری خوشی کی اس وقت کوئی انتہا نہ تھی جب آپ کی طرف سے اسلام کے جہاد میں سرگرم یہ رسالہ ملا تھا۔مگر اب آپ اسے بند کرنا چاہتے ہیں۔اے میرے اسلامی بھائیو۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس رسالہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اسی کے ذریعہ تو مجھے احمدیت کا تعارف ہوا تھا اور اس جماعت کی عظیم خدمات کا پتہ چلتا ہے۔آپ اس طرح کریں کہ اس رسالہ کے تبادلہ میں آپ میرا رسالہ قبول فرمائیں۔مگر خدارا التقوی“ بھیجنا ہرگز بند نہ کریں۔لندن میں مقیم ایک بہت بڑے عرب سکالر ، صحافی اور کئی کتب کے مصنف الشیخ حسین العاملی لکھتے ہیں: ’التقوی میں چھپنے والے امام جماعت احمدیہ کے خلیجی جنگ کے بارہ میں خطبات میں ان دنوں پڑھ رہا ہوں۔براہ کرم مسلمانوں کے سیاسی مسائل کے حل کے بارہ میں خلیفہ صاحب کے یہ سب خطبات مجھے ارسال کریں۔کیونکہ مجھے ان خطبات سے اپنی تصنیفات کی تیاری میں بڑی مدد ملے گی۔اہل دانش کے تبصرے الجزائر سے ایک بہن نے لکھا: آپ کا مجلہ القوی‘ ملا۔میری خوشی کا آپ تصور نہیں کر سکتے۔بہت حیران ہوئی کہ میرے ایسے بھائی ہیں جنہوں نے تراجم قرآن کر کے ایسی شاندار خدمت کی ہے۔مگر پاکستانی نام نہاد علماء کی طرف سے ہونے والے ظلم پر افسوس ہوا۔اس رسالہ کی افادیت کے پیش نظر ہم