مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 258
240 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سے خدا تعالیٰ نے متوفیک کو پہلے بیان فرما دیا ہے جبکہ ان کے خیال کے مطابق واقعات کی صحیح ترتیب میں سب سے پہلے رَافِعُكَ ہے۔افسوس کہ وہ اپنے اس موقف میں بھی بہت کمزور ثابت ہوئے۔اوّل تو کسی بھی بلیغ کلام میں کسی لفظ کے پہلے لانے اور کسی کے بعد میں رکھنے کی حکمت ہوتی ہے۔اس پوری آیت میں سب سے اہم بات عیسی علیہ السلام کا رفع ہے لہذا اسی سے ابتداء ہونی چاہئے تھی اگر تو فی کو اس سے قبل لایا گیا ہے تو ثابت ہوا کہ توفی زیادہ اہم ہے۔لیکن اگر ہم بفرض محال ان کی بات مان بھی لیتے ہیں تو صورتحال یہ بنتی ہے کہ اس آیت میں مذکورہ چار چیزوں میں سے تین پوری ہو چکی ہیں۔رفع بھی ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی تعلیم کے ذریعہ عیسی علیہ السلام پر کافروں کے لگائے ہوئے الزامات سے آپ کی تطہیر بھی ہو چکی ہے، اور آپ کے متبعین کا خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان جو آپ کو سچا رسول مانتے ہیں آپ کے کا فریعنی یہودیوں پر غلبہ بھی ظاہر وباہر ہے۔اگر باقی ہے تو صرف آپ کی وفات۔تقدیم و تاخیر کا مسئلہ کھڑا کر کے انہوں نے یہ کیسی ترتیب بنائی ہے کہ جس میں مُتَوَفِّيك، کو جہاں بھی رکھیں درست نہیں بیٹھتا۔وفات سے قبل اور وفات کے بعد ہونے والے سب وعدے پورے ہو چکے ہیں صرف درمیان میں ایک بات ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔ثابت ہوا کہ ان کا یہ حل بھی درست ثابت نہیں ہو سکا۔بلکہ درست وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اور وہی ترتیب منطقی اور عین حقیقت ہے جس میں پہلے نمبر پر آپ کی وفات ہے۔حکم عدل کا فیصلہ اس موضوع کا اختتام ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اقتباس سے کرتے ہیں جس سے اس مسئلہ کی حقیقت پر خوب روشنی پڑتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اگر مخالف سمجھتے تو عقائد کے بارے میں مجھ میں اور ان میں کچھ بڑا اختلاف نہ تھا۔مثلا وہ کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام مع جسم آسمان پر اٹھائے گئے۔سو میں بھی قائل ہوں کہ جیسا کہ آيت إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى کا منشاء ہے، بے شک حضرت عیسی بعد وفات مع جسم آسمان پر اٹھائے گئے۔صرف فرق یہ ہے کہ وہ جسم عصری نہ تھا۔بلکہ ایک نورانی جسم تھا جو ان کو اسی طرح خدا کی طرف سے ملا جیسا آدم اور ابراہیم اور موسیٰ اور داؤد اور بیٹی اور ہمارے نبی صلی اللہ۔