مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 257 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 257

239 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ہی غلط رکھ دی تو اب جو عمارت تعمیر ہوگی ٹیڑھی ہو گی۔چنانچہ انہوں نے اس کی توجیہ یہ کی کہ اگر ی انسان کو زمین سے آسمان پر لے جایا جائے تو اسے بہت خوف کی حالت سے دو چار ہونا پڑے گا اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سینہ میں شدید تنگی محسوس ہوگی۔لہذا اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرماتے ہوئے عیسی علیہ السلام کو سلا دیا تا کہ انہیں رفع کے وقت تکلیف نہ ہو۔گویا ان کے خیال میں عیسی علیہ السلام کا رفع ان کے اسی بشری جسم اور بشری لوازم کے ساتھ ہو اور نہ ان کے خوف کرنے یا سینہ کی تنگی کا سوال پیدا نہ ہوتا۔لیکن وہ بھول گئے کہ جو خدا اپنی سنت کے خلاف کسی انسان کو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا سکتا ہے وہ اس خوف کی حالت کو کیوں نہیں دور کر سکتا۔دوسری طرف اتنا لمبا سفراتنی تیزی کے ساتھ طے کرنے میں کیا عیسی علیہ السلام کو اور کوئی خطرہ نہ تھا صرف ان کے ڈر جانے کا ہی خطرہ تھا، جس کا بیان کرنا ضروری تھا؟ سائنسی اعتبار سے ثابت ہے کہ اوپر کی فضا میں آکسیجن بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور بالآخر سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اتنی تیزی سے اگر فضا میں پتھر بھی سفر کرے تو اس کو آگ لگن جائے گی اور اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔پھر ان خطرات کا حل کیوں نہ پیش کیا گیا ؟ نیز غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیند کوئی عام نیند نہیں تھی کیونکہ عام نیند میں تو انسان کو ذراسی حرکت بھی جگا دیتی ہے، لیکن یہ ایسی نیند تھی کہ کروڑہا میل کا سفر بھی ظاہری شکل میں طے ہو گیا، نہ آپ کو سانس لینے کی حاجت ہوئی، نہ جسم کو جلنے اور بکھرنے کی پرواہ ہوئی تو کیا اس قسم کی نیند اور موت میں کچھ فرق بتلایا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیا مشکل ہے کہ اسے حقیقی موت ہی مان لیا جائے اور آپ کا رفع دیگر انبیاء کی طرح روحانی رفع قرار دیا جائے؟ چوتھی غلطی حیات مسیح کے بعض قائلین نے مذکورہ بالا اعتراضات سے بچنے کے لئے کہا کہ "متوفیک کا مطلب تو حقیقی وفات ہی ہے لیکن اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔لہذا ان کے مطابق آیت كريم إِذْ قَالَ اللهُ يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقَيْمَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمْ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (آل عمران : 56 ) میں واقعات کی حقیقی ترتیب بیان نہیں ہوئی بلکہ کسی و