مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 256 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 256

238 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اس کے ساتھ نہ آپ کے زندہ ہونے کا ذکر ہے نہ آسمان کا اور نہ ہی جسم عنصری کا۔اسی طرح کی احادیث میں آپ کے نزول کا تو ذکر ہے لیکن اس کے ساتھ نہ آسمان کا ذکر ہے نہ ہی جسم عنصری کا۔پھر بھی محض رفع اور نزول کے الفاظ سے یہ اعتقاد بنالیا گیا کہ خدا تعالیٰ آسمان میں بیٹھا ہوا ہے اس لئے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بجسمه العنصری آسمان کی طرف ہوا اور وہیں سے نزول ہوگا۔سواس عقیدہ کے اپنانے سے وہ پہلی غلطی جس کے حیات مسیح کے قائلین مرتکب ہوئے یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں میں ہی کسی جگہ بیٹھے ہوئے تصور کر لیا۔یوں شاید نادانستگی میں آیات كريمة: اللهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ) (النور : 36) اور (وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ) کریمہ: (الحديد: 5) اور (هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ( (المجادلة : 8 ) اور (نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَريد ) (ق: 17) اور ان جیسی متعدد آیات کی نفی کر بیٹھے جن میں اللہ تعالیٰ کا ہر جگہ ہونا ثابت ہے۔کیونکہ اگر یہ لوگ خدا کے ہر جگہ موجود ہونے کے قائل ہوں تو رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے آسمان کی طرف رفع مراد نہ لیں۔دوسری غلطی ایک اور غلطی ان سے یہ ہوئی کہ مصادر شریعت کی ترتیب اور مقام کو ملحوظ نہ رکھا۔اگر حدیث میں نزول کے الفاظ آئے تو چاہئے تھا کہ اس حدیث کو قرآن کریم کی روشنی میں سمجھتے۔لیکن انہوں نے حدیث کو قرآن پر مقدم کیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس حدیث سے اپنے اخذ کردہ مفہوم کو ثابت کرنے کے لئے نصوص قرآنیہ اور احادیث کی اس کے مطابق تفسیر کی۔تیسری غلطی ایک اور غلطی یہ ہوئی کہ حیات مسیح کو ثابت کرنے کے لئے آیت کریمہ یعیتی إِنِّی مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ میں مُتَوَفِّيْكَ کے واضح اور معروف ”موت“ کے معنوں کو چھوڑ دیا اور یہ تاویل کی کہ وفات نیند کے معنوں میں ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوا کہ نیند کا رفع کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اور نیند اس قدر اہم کس طرح ہو سکتی ہے کہ اسے رفع سے بھی پہلے بیان کیا گیا ہے؟ حیات مسیح کے قائلین نے جب پہلی اینٹ