مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 252 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 252

234 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلیب کے ذریعہ مارنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ آپ کو طبعی وفات دے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔اور اپنے صالح بندوں کی طرح آپ کی روح کا ہی رفع فرمایا۔محمد الغزالی کی رائے (محمد الغزالی (1917-1996 ) مفکر اسلام، اخوان المسلمین کے اوائل کارکنوں میں سے ایک تھے، تمہیں سے زائد کتب کے مصنف تھے۔آپ نے علوم اسلامیہ کے شعبہ میں 1989 ء میں کنگ فیصل ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ڈاکٹر شلمی ان کی رائے درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں:) اب ہم ایک محقق جناب محمد الغزالی صاحب کی رائے درج کرتے ہیں جنہوں نے اس بارہ میں گہری تحقیق کی ہے۔ہم ان کی تحقیق سے بعض پیرا گراف یہاں درج کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: میں اس رائے کے حق میں ہوں کہ عیسی علیہ السلام دیگر تمام انبیاء کی طرح فوت ہو گئے ہیں جبکہ رفع صرف آپ کی روح کا ہی ہوا۔اور آپ کے جسم کا انجام بھی باقی انبیاء کے جسم کی طرح ہوا۔آپ کی وفات پر یہ آیت دلالت کرتی ہے : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَّيِّتُونَ (الزمر: 31) “ نیز یہ آیت : "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران 145 )۔چونکہ ہماری کتاب قرآن کریم میں عیسی علیہ السلام کے جسم عنصری کے ساتھ زندہ ہونے کے بارہ میں کوئی صراحت نہیں آئی اس لئے ہم مسلمانوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اس رائے کو مان لیں کہ عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور آپ کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آپ دیگر انبیاء کی طرح عزت و تکریم اور درجات کی رفعت والی روحانی زندگی ہی جی سکتے ہیں جسمانی نہیں۔ہمارا یہ اعتقاد رکھنا اس لئے بھی ضروری ہے تاہم حیات مسیح کا عقیدہ رکھنے سے یہ شبہہ نہ پیدا کرنے والے بنیں کہ چونکہ عیسی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور 66 ہمیشہ کے لئے زندہ بھی ہیں اس لئے ان میں نعوذ باللہ کوئی خدائی کا عنصر شامل ہے۔اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ آیات قرآن کریم کے مطالعہ کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور آپ کی موت ایک حقیقت ہے جو کہ دیگر انبیاء کی موت کی طرح ہے۔