مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 251
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 233 ورفعناه مَكَانًا عَلِيًّا۔یعنی ہم نے اس کا اعلیٰ مقامات کی طرف رفع کیا۔پس عیسی علیہ السلام کا ن زندہ ہونا روحانی لحاظ سے ہے جیسے شہداء اور دیگر انبیاء روحانی طور پر زندہ ہیں۔عبد الوہاب نجار ایک محقق اور سکالر ہیں جنہوں نے جامعتہ الازہر میں انبیاء کرام کے نقص پر مبنی لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا جنہیں بعد میں اپنی شہرہ آفاق کتاب قصص الأنبیاء" میں جمع کر دیا۔آپ نے کئی کتب کی تحقیق و تلخیص کی ہے اس کے علاوہ خلفائے راشدین پر بھی آپ کی ایک ضخیم کتاب مقبول عام ہے۔) جناب عبد الوہاب نجار کہتے ہیں: جو یہ کہتا ہے کہ عیسی علیہ السلام اپنے جسم سمیت آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اس کے پاس اس دعوی کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ "وَرَافِعُكَ إِلَى “ کے ساتھ السَّمَاء کا لفظ موجود نہیں ہے۔اور اس حالت میں عبارت مذکورہ کے معنی صرف یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی ایسی جگہ لے جانے والا ہے جو انکے دشمنوں کی پہنچ سے دور ہوگی لیکن ظاہری و باطنی طور پر وہ خدا تعالیٰ کے زیر تصرف ہوگی۔اور رَافِعُكَ إِلَی میں جہاں تک ائی کے لفظ کا تعلق ہے تو یہ اسلوب حضرت لوط علیہ السلام کے اس قول کے مشابہ ہے جو خدا تعالیٰ نے انکی زبانی درج فرمایا ہے کہ: إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي (العنکبوت: 27)۔یہاں بھی یہ معنی نہیں ہے کہ میں آسمان کی طرف ہجرت کر کے جانے والا ہوں بلکہ یہ تو ایسے ہی تھا جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ( النساء : 101 )۔یعنی جو اپنے گھر سے خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل پڑے گا۔سید قطب (1906-1966 ) ایک ادیب اور کا تب اور مصری تحریک اخوان المسلمین کی مؤثر ترین شخصیت تھے۔کئی بار جیل کاٹی اور آخری دفعہ اسلامی انقلاب اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کے جرم میں پھانسی کی سزا ہوئی۔آپ نے جیل میں ہی اپنی مشہور تفسیر فی ظلال القرآن تالیف کی۔اس کے علاوہ دس کے قریب ادبی کتب اور دس سے زائد اسلامی موضوعات پر مشتمل کتب تالیف کیں۔آج بھی اسلامی فکر اور دینی حلقوں میں آپ کی آراء کو ایک خاص مقام دیا جاتا ہے۔) سید قطب گزشتہ تین آیات میں سے پہلی آیت کے بارہ میں کہتے ہیں کہ: