مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 250 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 250

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم دوسرے الفاظ میں یہ جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید کر رہے ہیں) 232 جناب امین عز العرب بھی اس بارہ میں شیخ محمد عبدہ اور محمد رشید رضا صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں: میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کریم میں اوّل سے لے کر آخر تک کوئی ایک آیت بھی نہیں ہے جو عیسی علیہ السلام کے جسمانی نزول کا تصور پیش کرتی ہو۔شیخ محمد ابو زہرہ (1898ء۔1974ء) کا پورا نام محمد احمد مصطفیٰ احمد ہے کلیہ - اصول الدین اور لاء کالج میں تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے پھر صدر شعبہ شریعت اسلامیہ بھی رہے، اسی طرح مجمع الجوث الاسلامیہ کے عضو بھی رہے۔آپ نے ایک تفسیر، فقہ اسلامی کے مختلف موضوعات پر متعدد کتب اور عیسائیت کے بارہ میں ایک مشہور کتاب ” محاضرات فی النصرانية “ سمیت تمہیں کے قریب کتب تصنیف کیں۔) شیخ محمد ابو زہرہ مذکورہ بالا احادیث کے بارہ میں ایک بار یک نقطہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ احادیث، علاوہ اس کے کہ متواتر نہیں بلکہ آحاد ہیں، اسلام کی پہلی تین صدیوں کے بعد مشہور ہوئی ہیں۔اس کا تعلق بھی محمد رشید رضا صاحب کی عیسائیوں کی طرف سے اسلامی عقائد کو بگاڑنے کی کوششوں کے ساتھ ہوسکتا ہے کیونکہ وہ صدیوں سے فکر اسلامی میں اپنے غلط عقائد داخل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔۔۔جناب محمد ابوزہرہ اپنی بات اس قول پر ختم کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی ایسی نص موجود نہیں ہے جو یہ عقیدہ رکھنا لازم قرار دیتی ہو کہ عیسی علیہ السلام اپنے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں۔پھر بھی اگر کسی کے نزدیک بعض نصوص سے ایسا ثابت ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ خود تو جو چاہے عقیدہ اختیار کر لے لیکن کسی دوسرے کو اس کا پابند نہ کرے۔اور استاد اکبر شیخ مصطفیٰ المراغی کہتے ہیں: قرآن کریم میں نہ تو عیسی علیہ السلام کے جسم و روح سمیت آسمان پر اٹھائے جانے کے بارہ میں نہ ہی آپ کے ابھی تک جسم و روح سمیت زندہ ہونے کے بارہ میں کوئی قاطع نص پائی جاتی ہے۔رفع کے الفاظ سے صرف یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ کا درجات کے لحاظ سے اپنے رب کے حضور رفع ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا: