مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 236
218 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم شہید کا جسم تو اسی زمین میں ہی دفن کیا جاتا ہے۔پھر آیت کریمہ بیان کرتی ہے کہ شہید خدا کے حضور رزق دیئے جار ہے ہیں۔اس سے بھی جسمانی قربت مراد نہیں ہے نہ ہی مادی رزق مراد ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے روح کی عزت و تکریم مراد ہے اور خدا تعالیٰ سے قربت کی وجہ سے روحانی طور پر لذتیں پانے کا بیان ہے نہ کہ جسمانی طور پر۔مذکورہ بالا دو حدیثوں کے بارہ میں مفکرین و محققین دو جواب دیتے ہیں: اول: یہ احادیث آحاد ہیں جن پر کسی عقیدہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی جبکہ یہ مسئلہ ایک اعتقادی مسئلہ ہے۔دوم : حدیثوں میں عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی رفع کے بارہ میں ایک لفظ بھی نہیں آیا۔بلکہ رفع کا عقیدہ احادیث میں ان کے نزول کے ذکر کی بنا پر بنایا گیا ہے۔اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ احادیث میں عیسی کے نزول کا معنی ہے کہ قبل از میں ان کا رفع ہو چکا ہے اس لئے وہ جسمانی طور پر نزول فرمائیں گے۔یوں ان لوگوں نے عیسی علیہ السلام کے جسمانی رفع کا فیصلہ حدیثوں میں لفظ نزول آنے کی بنا پر کیا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں نزول کے لئے کسی چیز کے رفع کی ضرورت نہیں ہوتی۔مثلا اگر آپ کہیں کہ نَزَلتَ ضَيْفًا عَلَى فُلَانٍ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ پہلے آپ کا کہیں رفع ہوا ہوا تھا اور اب آپ وہاں سے نزول فرمائیں گے۔( بلکہ اگر آپ دسویں منزل پر بھی لفٹ کے ذریعہ چڑھ کر جائیں تو بھی یہی کہیں گے کہ نَزَلتَ ضَيْفًا، اور معنی ہوگا میں مہمان کے طور پر کسی کے گھر گیا۔ناقل ) اب ہم اگر ( نزل اور انزل) کا قرآنی استعمالات کی روشنی میں معنی تلاش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم نے نزول کے لئے رفع کو ضروری قرار نہیں دیا؟ بلکہ کبھی اسکا معنی ہوتا ہے" رکھنا جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ: وانْزَلْنَا الحَدِيدَ فيه بأس شديد ( الحديد : 26) یعنی ہم نے لوہے میں شدت اور سختی اور کبھی نزول کا معنی ہوتا ہے ” مقدر کرنا جیسے کہ فرمایا: وَقُل رَّبِّ انْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَرَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ (المومنون: 30) یعنی اے میرے پروردگار میرے لئے مبارک مقام مقدر فرما دے۔