مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 235 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 235

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 217 کا لفظ قرآن کریم میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ۔(ایسے گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے اذن دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے ) نَرْفَعُ دَرَجتٍ مَّنْ نَّشَاءُ (الانعام: 84) - (ہم جسے چاہیں درجات کے لحاظ سے بلند کرتے ہیں) تھا۔) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَك (الانشراح : 4 )۔(اور ہم نے تیرے لئے تیرا ذکر بلند کر دیا) وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم : 58 ) - ( اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا ہی يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَختِ (المجادلہ: 12)۔( اللہ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خصوصاً ان کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے) چنانچہ رَافِعُكَ إِلَی اور بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کا استعمال ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ کوئی اپنے رفیق اعلیٰ یا خالق حقیقی سے جاملا، یا جیسا کہ آیت إِنَّ اللهَ مَعَنَا یعنی اللہ ہمارے ساتھ ہے کا استعمال ہے، یا جیسے مومنوں کے بارہ میں آیا ہے کہ وہ عِندَ مَلِيْكَ مُقْتَدِر یعنی اپنے قادر خدا کے پاس ہوں گے۔ان تمام استعمالات سے خدا تعالیٰ کی حفظ وامان اور اسکی طرف سے عزت واکرام عطاء ہونے کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں بنتا۔علاوہ ازیں ایک اور آیت کریمہ بھی ہے جو تمام آیات رفع سے قوی تر ہے پھر بھی اس سے روحانی بقا اور روحانی خلود مراد ہے، نہ کہ جسمانی۔اور وہ آیت ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُون فَرِحِيْنَ بِمَا اتْهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ - عمران آیت نمبر 170-171) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اُن کو ہر گز مُردے گمان نہ کر بلکہ ( وہ تو زندہ ہیں (اور ) انہیں ان کے رب کے ہاں رزق عطا کیا جا رہا ہے۔باوجود اس کے کہ اس آیت کریمہ میں صراحتاً یہ ذکر ہے کہ شہید زندہ ہیں پھر بھی اس سے مراد جسمانی زندگی نہیں ہے کیونکہ