مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 234 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 234

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 216 کے پاس اس کا کوئی علم نہیں سوائے ظن کی پیروی کرنے کے۔اور وہ یقینی طور پر اسے قتل نہ کر سکے۔بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کرلیا۔نیز خدا تعالیٰ کا یہ قول جس کا ترجمہ ہے : جب اللہ نے کہا اے عیسی ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث جس کا ترجمہ ہے: اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ قریب ہے کہ عیسی ابن مریم تم میں حکم عدل اور انصاف قائم کرنے والے کے طور پر نازل ہوگا جو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ان دلائل پر تبصرہ اور ان کا رو جمہور مسلمان مفکرین ان دلائل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام یہودیوں کے چنگل سے نجات کے بعد ایک عرصہ تک زندہ رہے یہاں تک کہ اللہ کی مقرر کردہ اجل آگئی تو عام معروف طریق پر انہوں نے وفات پائی، اور آپ کی روح کا آسمان کی طرف رفع ہوا جیسا کہ انبیاء اور صدیقین اور شہداء کی ارواح کا رفع ہوتا ہے۔گو کہ نص قرآنی میں عیسی علیہ السلام کے رفع کا ذکر ہے لیکن چونکہ آپ نبی تھے اس لئے (تمام نبیوں کی طرح) آپ کی روح کا ہی رفع ہونا تھا خصوصا اس لئے بھی کہ یہودیوں کی طرف سے آپ کو (قتل کا جو ) خطرہ تھا اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے عزت و اکرام کے ساتھ آپ کی نجات کا ذکر فر مایا اور اس کے بعد آپ کے اعلیٰ مقام کا ذکر کیا ہے جو روحانی رفع کا متقاضی ہے۔اور یہ مسلمان مفکرین پہلی آیت بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ دراصل یہ اس وعدہ کے پورے ہونے کا بیان ہے جو دوسری آیت " إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ۔الَّذِينَ كَفَرُوا میں مضمر ہے۔اگر چہ بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وفات اور تطہیر کے بیان سے خالی ہے اور صرف رفع کے بیان پر ہی مشتمل ہے لیکن دونوں آیات کو ملا کر معانی کرتے وقت رفع والی آیت میں دوسری آیت کے لفظ مُتَوَفِّيْكَ کا معنی مد نظر رہنا چاہئے۔ان علماء کا خیال ہے کہ یہاں رفع سے مراد مقام ومرتبہ کا رفع ہے اور ان معنوں میں رفع