مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 216
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 198 ہے۔چونکہ ایسا نہیں ہوا لہذا ثابت ہوا کہ اس آیت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہے اور جملہ واقعات آیت میں مذکور ترتیب کے مطابق ہوئے ہیں یعنی پہلے عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے پھر رفع ہوا ہے۔اور یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وفات کے بعد ہونے والے رفع سے مراد درجہ اور مقام کا رفع ہوتا ہے نہ کہ جسم کا۔شیخ محمد عبدہ کے اس کلام سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ علماء نے پہلے غلط فہمی کی بنا پر ایک غلط عقیدہ بنالیا اور اس کو جب قرآن سے ثابت کرنا چاہا تو قرآن کو اس کے برخلاف پایا۔یہاں امانت اور انصاف کا تقاضا تھا کہ اس غلط عقیدہ کو بدل لیتے لیکن انہوں نے نہ تو یہ عقیدہ بدلا نہ ہی خود کو بدلا بلکہ اس کی جگہ قرآن کو بدل دیا اور تقدیم و تاخیر کا تصور پیش کیا جس سے ان کا غلط عقیدہ ثابت ہو سکے۔اگر اس طرح قرآن کریم میں جا بجا بغیر کسی دلیل کے تقدیم و تاخیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا جائے تو سارے قرآن میں شک کی نئی راہیں کھل جائیں گی جو قرآن کے اس کی عظیم دعولی خلاف ہے جو اس ابتدائی آیت میں بیان ہوا ہے کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ یعنی یہ ایسی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک یا ریب نہیں ہے۔) (قال) والطريقة الثانية أن الآية على ظاهرها وأن التوفي على معناه الظاهر المتبادر وهو الإماتة العادية وأن الرفع يكون بعده وهو رفع الروح لا بدع في إطلاق الخطاب على شخص وإرادة روحه فإن الروح هي حقيقة الإنسان والجسد كالثوب المستعار (قال) ولصاحب هذه الطريقة في حديث الرفع والنزول في آخر الزمان تخريجان أحدهما أنه حديث آحاد متعلق بأمر اعتقادى لأنه من أمور الغيب والأمو رالاعتقادية لا يؤخذ فيها إلا بالقطعى لأن المطلوب فيها هو اليقين وليس فى الباب حديث متواتر وثانيهما تأويل نزوله وحكمه في الأرض بغلبة روحه وسر رسالته على الناس وهو ما غلب فى تعليمه من الأمر بالرحمة والمحبة والسلم والأخذ بمقاصد الشريعة دون الوقوف عند ظواهرها والتمسك بقشورها دون البابها وهو حكمتها وما شرعت لأجله،