مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 215
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 197 کہ عیسی علیہ السلام کا رفع زندہ ہونے کی حالت میں ان کے جسم اور روح کے ساتھ ہوا اور وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور ہماری شریعت اسلامیہ کی رو سے لوگوں کے درمیان فیصلے کریں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں وفات دے گا۔اس رائے کے حامی علماء زمین پر عیسی علیہ السلام کی دوسری زندگی کے بارہ میں جو بہت کچھ کہتے یا لکھتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے۔ان لوگوں پر اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ معنی آیت مذکورہ میں رفع کے لفظ کو توفی سے پہلے لا کر کیا ہے اور یہ قرآن کریم کی ترتیب کی خلاف ورزی ہے۔اس کے جواب کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى‘ میں واؤ ترتیب کے لئے نہیں آئی۔( یعنی ان کے مطابق یہاں تین چار امور کا بیان ہے اور اگر چہ ایسی عبارات میں واؤ ترتیب کے لئے آتی ہے لیکن آیت مذکورہ میں واؤ کا یہ مطلب نہیں کہ ان واقعات کی وہی ترتیب ہوگی جو آیت میں بیان ہوئی ہے کیونکہ اس ترتیب سے توفّی یعنی موت پہلے ہے اور پھر رفع کا ذکر ہے، چنانچہ یہاں کسی حکمت کے تحت خدا تعالیٰ کی طرف سے واقعات میں تقدیم و تاخیر ہے۔لہذا ان کے نزدیک پہلے رفع کا واقعہ ہوا اور توفی کا واقعہ نزول عیسی کے بعد ہوگا) شیخ محمد عبدہ اس رائے پر محاکمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ وہ بھول گئے کہ آیت مذکورہ میں امور کی ترتیب کے خلاف ان کا نئی ترتیب قائم کرنا ایک بلیغ کلام میں کسی خاص نکتہ کے بیان کے لئے ہو سکتا ہے۔اور اس آیت میں توفی کے لفظ کو رفع پر مقدم رکھنے میں کوئی خاص نکتہ نہیں ہے کیونکہ رفع دراصل توفی سے اہم ہے کیونکہ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کی نجات اور ان کے مقام و مرتبہ کی رفعت کی بشارت ہے۔یہ عبارت کسی قدر وضاحت طلب ہے۔اس میں شیخ محمد عبدہ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے لیکن تقدیم و تاخیر ایک بلیغ کلام میں کسی بلاغی نکتہ کے بیان کے لئے ہوتی ہے۔جبکہ اگر آپ کی بات مان لی جائے اور یہ کہا جائے کہ توفی کو اللہ تعالیٰ نے رفع پر مقدم کر دیا ہے جبکہ صحیح ترتیب میں رفع پہلے اور توقی بعد میں ہے تو دراصل اس تقدیم و تاخیر میں تو کوئی منطق یا بلاغت کا نکتہ سمجھ میں نہیں آتا بلکہ اگر کسی بلاغی نکتہ کی بناء پر اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہوتی تو رفع کو پہلے ہی بیان ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ رفع زیادہ اہم ہے اس لئے کہ اس میں عیسی علیہ السلام کی ان کے دشمنوں کے چنگل سے نجات کا ذکر