مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 203
185 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم عودہ صاحب کا تو شاید یہ گمان ہو کہ ان کے ارتداد کے بعد عرب ان کی غلط بیانی پر یقین کرتے ہوئے احمدیت سے مزید دور ہو جائیں گے۔لیکن اس سے بڑی سزا اور کیا ہوگی کہ اس شخص کو اپنی زندگی میں ہی اپنی کوششوں کی ناکامی کو دیکھنا پڑا، اور اپنی زندگی میں ہی اس قوم کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں احمدیت قبول کرتے دیکھنے پڑا جس کو روکنے کیلئے نہ جانے انہوں نے کتنے جھوٹ بولے تھے۔اور آئے دن نئے عرب احمدیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آپ کے خلفاء اور آپ کی جماعت کے ساتھ مخلصانہ جذبات کا اظہار ایک مرتد کے لئے ایک نہ ختم ہونے والی درد ناک سزا سے کم نہیں ہے۔اسرائیلی فوج میں احمدیوں کی تعداد! کسی بھی الہی جماعت کے مخالفین کے اعتراضات اور الزامات کا جائزہ لے کر دیکھ لیں ان میں جھوٹ اور بہتان کا عنصر بہت نمایاں طور پر سامنے آئے گا۔یہی حال جماعت احمدیہ کے مخالفین کا ہے جو جھوٹے اعتراضات اور بہتانات تراشنے میں تمام حدیں پار کر گئے ہیں۔ایسے لوگ جب کسی حسن عودہ کو پاتے ہیں تو اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے اس کی زبانی ایسے اعتراضات دہرانا چاہتے ہیں تا ثابت ہو کہ حقیقت واقعی وہی ہے جو وہ کہہ رہے ہیں۔یہی حال حسن عودہ کے ساتھ ہوا۔انکے حوالے سے کئی ایسی باتیں اخباروں میں نشر ہوئیں جن میں سے یہاں دو اعتراضات کا ذکر کر نا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ایک اخبار نے لکھا کہ انہوں نے جب ان سے احمدیت اور اسرائیل کے تعلقات کی بات پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیلی فوج میں کوئی احمدی نہیں ہے۔لیکن اسرائیلی پولیس میں اور رضا کاروں میں انکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔(دیکھئے روز نامہ جنگ لندن 24 نومبر 1989) ہمیں اس بیان پر تعجب ضرور ہوا کہ جو بات اظہر من الشمس ہے اور جس کے عودہ صاحب خود گواہ بھی ہیں اس کے بارہ میں بھی وہ اتنا سفید جھوٹ بول کیسے بول سکتے ہیں۔لیکن دیگر امور کی طرح اس معاملہ میں بھی غلط بیانی کوئی زیادہ حیران کن نہ تھی۔تاہم جب ہم نے ان کی ارتداد کے بعد لکھی ہوئی کتاب کی ورق گردانی کی تو معلوم ہوا کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے جس کا اعتراف انہوں نے اس کتاب میں کیا ہے یعنی یہ کہ بعض اخبارات نے ان کے فرضی انٹرویوز اور