مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 193
175 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم دیکھا کہ کچھ توقع ہے کہ وہ ہاں میں ہاں ملائیں گے ان سے پھر یہ بات کرنا شروع کی اسی تین مہینے کے عرصہ میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی بعض پیشگوئیوں کے متعلق مجھے شک ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئیں، اور اس رنگ میں ان کو انہوں نے بدکا نا شروع کیا۔اور جب اس کی اطلاع جون میں یعنی تین مہینے کے اندر اندر ایک ایسے شخص کے ذریعہ پہنچی جو پوری طرح گواہ بن گیا جس نے تحریری طور پر یہ اطلاع دی کہ مجھ سے اس نے یہ یہ باتیں کی ہیں تو اس پر ان پر کمیشن مقرر کیا گیا جس کے صدر ایک نہایت مخلص عرب مصری احمدی تھے ، بشیر احمد صاحب رفیق اس بورڈ کے ایک ممبر تھے اور عبد الحمید عبد الرحمن، ماریشس والے بھی اس کے ایک ممبر تھے۔انہوں نے متفقہ طور پر یہ رپورٹ پیش کی کہ : یہ شخص کھایا گیا ہے، منافق ہے، جھوٹ بولتا ہے اور ہرگز اس لائق نہیں کہ ایک منٹ بھی اس کو جماعت کے کسی کام پر رکھا جائے۔اس لئے ہم متفقہ سفارش کرتے ہیں کہ جب اس کے جرائم ثابت ہیں اور بار بار کی مغفرت اور عفو کے سلوک نے ایک ذرہ بھی اصلاح پیدا نہیں کی۔اس لئے اس کو فوری طور پر فارغ کر دینا چاہئے۔16 جولائی کو میں نے کمیشن مقرر کیا ہے اسی روز (6/ جولائی ) کو انہوں نے تحریری طور پر مجھے لکھا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کہ اپنے شکوک کا اظہار نہ کبھی آپ سے کیا نہ علمائے سلسلہ سے بات کی تحریر تو لمبی ہے یہ ایک فقرہ یادرکھنے کے لائق ہے تا کہ میں اس پر بعد میں تبصرہ کرتی سکوں۔اخبارات میں انہوں نے یہ بیان دیا کہ جماعت احمدیہ کے متعلق مجھے بڑی مدت سے شکوک پیدا ہورہے تھے۔جب میں میرا نام لے کر کہ اس کے سامنے ان کو پیش کرتا تھا تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے تھے۔بالآخر میں نے آمنے سامنے کر کے چیلنج کیا کہ یہ جماعت جھوٹی ہے اور اس کے باوجود وہ جب مجھے مطمئن نہ کر سکے تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں جماعت کو چھوڑ دیتا ہوں اور یہ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط (7 جولائی 1989 ء) کا ہے کہ میں بہت شرمندہ ہوں کہ اپنے شکوک کا اظہار نہ بھی آپ سے کیا نہ علمائے سلسلہ سے بات کی۔“ " جو کچرا جماعت باہر پھینکتی ہے اسے یہ سینے سے لگا لیتے ہیں ”اب اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا بڑا معرکہ مارا گیا ہے جو ایسے شخص کو جو اپنی تحریر سے واضح طور پر قطعی جھوٹا ثابت ہے اور بددیانت ثابت ہے اور منافق ثابت ہے اس کو