مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 185
مصالح العرب۔جلد دوم 167 بعض یا دیں 1987ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ مجھے بھی ناروے کے دورہ پر ساتھ لے گئے۔وہاں پر کچھ عرب مہمان بھی آگئے۔ان کے ساتھ حضور انور گفتگو فرمانے لگے تو فرمایا نصیر قمر کو بلائیں۔حضور انور کے پر معارف مضامین کا عربی میں ترجمہ کرنا میرے لئے بہت مشکل کام تھا۔کچھ دیر تو میں نے جیسے تیسے کام چلایا پھر ایک عرب احمدی آگئے جن کو عربی کے علاوہ انگریزی بھی آتی تھی لہذا ترجمہ کی ذمہ داری انہوں نے سنبھال لی۔اس ابتدائی عرصہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی عربی ڈاک کے جوابات تیار کرنے کی بھی توفیق ملی۔حضور عربوں کو بہت وقت دیتے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔جلسہ سالانہ پر عرب احباب قصیدہ پڑھا کرتے تھے۔اس کی نگرانی اور تیاری بھی حضور انور نے میرے ذمہ کر دی تھی اور شاید مقصد یہ بھی تھا کہ انہیں اس طرح کچھ نہ کچھ انتظامی اور مرکز کی باتیں پتہ چلیں گی اور تربیت ہوگی۔جلسہ سالانہ برطانیہ کے ایک خطاب میں حضور انور نے فرمایا کہ جماعت کا چندہ اب خدا کے فضل سے اربوں میں داخل چکا ہے اور ساتھ ہی فرمایا کہ عربوں میں بھی جماعت کثرت اور تیزی سے نفوذ کرے گی۔گو اس سے قبل عربوں کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا لیکن حضور انور کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے اور آج ہم ان کے پورا ہونے کے نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔نظام خلافت کی ایک یہ بھی خوبی ہے کہ اس کے کاموں میں تسلسل ہوتا ہے۔شام سے لندن واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد مکرم منیر احمد صاحب جاوید کو مصر میں عربی زبان سیکھنے کے لئے بھجوایا گیا جہاں وہ قریباً ڈیڑھ سال رہے۔اسی طرح مکرم صفدر حسین عباسی صاحب کو بھی اسی غرض سے 8 جولائی تا 24 ستمبر 1985 ء شام میں رہنے کی توفیق ملی لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔الہی جماعتوں کا ایک روشن نشان یہ ہوتا ہے کہ سعید روحیں ان میں شامل ہوتی چلی جاتی ہیں اور دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ ان کے مخالفین کی زمین رفتہ رفتہ کناروں سے کم ہوتی جاتی ہے۔یہ امر اس قدر معلوم ومشہود ہوتا ہے کہ الہی جماعت کی صداقت۔