مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 184
مصالح العرب۔جلد دوم اسوہ حسنہ 166 ایک دفعہ مکرم محمد الشوا صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس ان کے ایک وکیل دوست بھی تشریف رکھتے تھے۔وہ کہنے لگے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 40 سال کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا اور 63 سال کی عمر میں وفات پائی۔یوں آپ نے 23 سال نمازیں ادا کیں۔لہذا اگر کوئی 23 سال تک نمازیں پڑھ لے تو اس کے لئے کافی ہوگا۔مکرم محمد الشوا صاحب نے مجھے کہا کہ ان کے سوال کا کیا جواب ہوسکتا ہے۔میں نے عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ نہیں کہ 23 سال تک نمازیں ادا کیں بلکہ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ اليَقِينُ (الحجر: 100) کے حکم کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ آپ نے زندگی کے آخری سانس تک نمازیں ادا کیں حتی کہ آخری بیہوشی کی حالت سے بھی جب افاقہ ہوتا تو آپ نماز کے بارہ میں ہی دریافت فرماتے۔پس اسوہ حسنہ کی پیروی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح زندگی کے آخری سانس تک نماز ادا کرتے رہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ کس طرح تصور کر لیا جائے کہ جو نماز ہم پڑھ رہے ہیں وہ بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے برابر ہے۔شاید ہماری ساری عمر کی نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نماز کے بھی برابر نہ ہوسکیں گی۔پھر ایسی صورت میں کیونکر ممکن ہے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ میں نے اس قدر نمازیں پڑھ لی ہیں جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ادا کی تھیں۔میرے اس جواب پر وہ دوست بالکل خاموش ہو گئے۔عربی زبان میں خطبہ اس وقت وہاں پر باقاعدگی سے نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی۔جب ہماری واپسی کا فیصلہ ہو گیا تو آخری جمعہ میں نے پڑھایا اور ایک گھنٹے کا فی البدیہہ خطبہ عربی زبان میں دیا جس میں قرآن مجید کے حوالہ سے باہمی اتفاق و اتحاد اور حبل اللہ کے ساتھ چمٹے رہنے کا مضمون بیان کیا۔احباب کرام نے اس کو بہت سراہا۔بالآخر 9 مئی 1986ء کو یکم رمضان المبارک کے دن ہماری واپسی ہوئی۔