مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 183
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 165 تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات، اسی طرح مرکز جماعت اور دیگر علاقوں میں جماعت کی خبریں بتائی گئیں جن سے وہ بالکل ہی بے خبر تھے۔ان چند دنوں کے بارہ میں مکرم نصیر احمد قمر صاحب نے اپنی کچھ یادیں بیان فرمائیں جو انکی زبانی نظر قارئین کی جاتی ہیں۔جماعت کے لوگوں کو جماعت کے عالمی حالات کی کچھ خبر نہ تھی۔پاکستان اور دیگر ممالک میں احمدیوں کے ساتھ ظلم کے واقعات کا بہت کم علم تھا۔اس لئے جب بھی ہمیں موقعہ ملتا اور ہم انہیں یہ واقعات سناتے تو یہ بڑی دلچسپی سے سنتے تھے۔ان کو مرکز سے، خلیفہ وقت سے رابطے کی ایک تڑپ تھی۔ان کے ساتھ ہماری گفتگو ہوتی تو ہماری عربی زبان کی پریکٹس ہو جاتی اور انہیں جماعت کے حالات کے بارہ میں معلومات مل جاتیں۔مکرم منیر احصنی صاحب ان دنوں علیل تھے۔ان سے ملاقات تو ہو جاتی تھی لیکن زیادہ گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ہمارے وہاں قیام کے دوران مکرم ناصر عودہ صاحب اور ان کے اہل خانہ نے بہت اخلاص اور محبت کا اظہار فرمایا۔ان کی اہلیہ باصرار خود ہی کھانا بناتی رہیں اور ہمیں نہیں پکانے دیا۔اسی طرح مکرم محمد الشوا صاحب کے بھائی مکرم زکریا الشوا صاحب نے بھی بہت سیر کروائی۔وہ ہمیں لے کر وہاں پر صحابہ کرام اور صحابیات کے مزارات پر گئے۔علاوہ ازیں آثار قدیمہ اور کئی تاریخی عمارات اور مقامات کی بھی سیر کروائی۔مکرم نذیر مرادنی صاحب جب بھی ہمارے پاس بیٹھتے کاغذ قلم نکال کر ہماری باتوں کے نوٹس لیتے تھے۔اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ گزشتہ عرصہ میں جو بھی جماعت کا نمائندہ یا مبلغ یہاں تشریف لایا ہے ان کی باتوں کے نوٹس ان کے پاس لکھے ہوئے موجود ہیں۔ہماری وہاں موجودگی کے عرصہ میں مکرم نذیر مراد نی صاحب کے بھائی نے بیعت کی تھی۔وہاں مرکز سے جو ڈاک پہنچتی تھی اس میں سے اکثر جماعت کے اردو زبان میں رسالے تھے جن کو پڑھ کے سمجھنے سے وہ قاصر تھے اس لئے ہم نے دیکھا کہ ان کو کسی نے کھولا تک نہ تھا۔ہم نے کھول کر ان میں مذکور بعض خبروں اور مضامین سے احباب کو آگاہ کیا تو وہ بڑے حیران ہو کر کہنے لگے کہ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ ان رسائل میں اس قدرخزا نے موجود ہیں۔