مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 182 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 182

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ایک یہ بھی تھی کہ وہاں جا کے زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ جماعت کو بھی سنبھالیں۔164 3 اپریل 1986ء کو یہ دونوں مربیان کرام شام پہنچ گئے۔ائر پورٹ پر استقبال کے لئے آنے والے احمدیوں میں مکرم محمد الشوا صاحب، مکرم ناصر عوده صاحب، مکرم منیر ادلبی صاحب، مکرم نذیر مرادنی صاحب، اور مکرم خالد عباس ابور اجی صاحب شامل تھے۔ویزہ میں توسیع نہ ہو سکی پروگرام تو یہ تھا کہ شام میں انہیں کسی انسٹیٹیوٹ میں داخلہ مل جائے گا جس کی بنا پر ان کے ویزہ میں توسیع ہو جائے گی لیکن باوجود انتہائی کوشش کے ایسا نہ ہو سکا۔اور پانچ ہفتوں کے مختصر قیام کے بعد انہیں واپس لندن آنا پڑا۔حضور انور نے لندن سے روانگی سے قبل دونوں مربیان میں سے مکرم نصیر احمد قمر صاحب کو نگران بنا کر ارسال کیا تھا اور ان سے تعاون کی ہدایات پر مشتمل ایک خط شام کی جماعت کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔مربیان کرام نے یہ خط دستی لے جانا چاہا لیکن اس وقت کے عربی ڈیپارٹمنٹ کے انچارج حسن عودہ صاحب نے اسے ڈاک کے ذریعہ بھیجنے پر ہی اصرار کیا۔شام پہنچنے پر ائیر پورٹ پر تو کوئی مشکل پیش نہ آئی تا ہم چند دنوں کے بعد ان کے پاس سی آئی ڈی کے کچھ لوگ آئے جنہوں نے ان کے آنے کا سبب پوچھا۔ان کے اس جواب کے بعد کہ عربی زبان کی مزید تعلیم کے لئے یہاں آئے ہیں، یہ سی آئی ڈی والے تو چلے گئے لیکن اس کے بعد نہ تو انہیں کہیں داخلہ ملا نہ ہی ویزہ میں توسیع ہو سکی اور دلچسپ بات یہ کہ لندن سے پوسٹ کیا ہوا خط نہ ان کی موجودگی میں انہیں وہاں ملا، نہ ہی ان کے بعد وہاں پہنچا۔۔شاید یہ خط سی آئی ڈی والوں کے ہاتھ لگ گیا تھا اور انہیں نہ جانے کیا خوف تھا جس کی بنا پر دونوں مربیان کو وہاں پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ دیا گیا۔اس وقت میڈیا نے اتنی ترقی ابھی نہیں کی تھی نہ ہی جماعت کا ٹی وی چینل تھا نہ ویب سائٹ اور نہ دیگر تیز ترین ذرائع جو آجکل میسر ہیں۔اس لئے جماعتیں ان معلومات کے سلسلہ میں زیادہ تر ڈاک پر ہی انحصار کرتی تھیں اور شام میں شاذ و نادر کے طور پر ہی ڈاک پہنچتی تھی۔اس لئے ان پانچ ہفتوں کے قیام میں دوڑ بھاگ سے بچنے والے وقت میں مربیان کرام کو احمدی احباب کے ساتھ بیٹھنے کا جتنا بھی موقعہ ملا تو انہیں خلیفہ وقت کی مصروفیات ، آپ کی مختلف کی