مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 181 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 181

مصالح العرب۔جلد دوم 163 مربیان کرام کی عرب ممالک میں روانگی جیسا ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت خلیفہ انبیح الرابع رحمہ اللہ نے ہجرت کے بعد دیگر بیرونی الله ممالک اور اقوام کے ساتھ ساتھ عربوں میں بھی تبلیغ کو بڑی اہمیت دی۔عربوں میں تبلیغی مہمات کی کامیابی کا ایک اہم نقطہ عربی زبان میں زیادہ سے زیادہ لٹریچر مہیا کرنا تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مربیان کرام کو عربی زبان کی مزید تعلیم کے لئے عرب ممالک میں بھجوایا۔ان میں بعض مبلغین کرام کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، بعض کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے لندن میں کسی مجلس میں اس بات کا ذکر فرمایا کہ چند مبلغین کو مختلف زبانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونی ممالک بھیجوایا جائے۔اس سلسلہ میں مکرم ملک سیف الرحمن صاحب نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے جامعہ احمد یہ ربوہ میں چند ند متخصصین تیار کئے تھے اگر حضور پسند فرما ئیں تو انہیں بعض عرب ممالک میں عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کیلئے بھجوا دیا جائے۔چنانچہ اس بنا پر پاکستان سے مکرم نصیر احمد صاحب قمر اور مکرم منیر احمد صاحب جاوید کو لندن بھجوانے کی کارروائی شروع ہوئی ، اور ویزہ ملنے پر یہ دونوں مبلغین 16 مئی 1985 ء کولندن پہنچ گئے۔شام روانگی اور ہدایات لندن میں کام کی زیادتی اور عملہ کی کمی کی وجہ سے کچھ عرصہ انہوں نے لندن میں رہ کر کام کیا۔ازاں بعد یہ فیصلہ ہوا کہ انہیں عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے شام بھجوا دیا جائے۔لہذا مورخہ 2 اپریل 1986ء کو حضور انور رحمہ اللہ نے اسلام آباد میں انہیں ہدایات دیں جن میں