مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 169 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 169

مصالح العرب۔جلد دوم 153 مصر میں عربی زبان کی تعلیم کے علاوہ میں نے متعد د سفارتخانوں سے بھی رابطے کئے اور انہیں جماعت احمدیہ کا تعارف کروانے کا موقعہ ملا۔ان میں ویٹیکن کے سفارتخانہ میں جا کر سفیر سے ملاقات اور انہیں اسلام واحمدیت کا پیغام پہنچانا قابل ذکر بات ہے۔اسی طرح رشین سفیر سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھی جماعت کے بارہ میں بتانے کا موقعہ ملا۔حسنی مبارک کو انگریزی ترجمہ قرآن کا تحفہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہر سال کتابوں کا ایک میلہ لگتا ہے جس میں نئی پرانی کتب کی نمائش اور فروخت ہوتی ہے۔اس میلہ میں ہم نے بھی اپنا سٹال لگایا۔ایک دن اس میلہ کو دیکھنے کیلئے سابق مصری صدر حسنی مبارک بھی تشریف لائے۔جب وہ ہمارے سٹال پر تشریف لائے تو ہم نے انہیں حضرت چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن بطور تحفہ دیا۔جب وہ چلے گئے تو بعد میں انکے وفد کا ایک آدمی یہ چیک کرنے کے لئے آیا کہ یہ ترجمہ قرآن دینے والے کون لوگ تھے اور ہم سے اس بارہ میں کچھ سوال پوچھے اور مطمئن ہو کر چلا گیا۔فری میسنز مصر جانے سے قبل مجھے رسالہ ” خالد کی ادارت کے فرائض سرانجام دینے کی توفیق ملی تھی۔مصر پہنچ کر میرا تعارف عربی جریدہ الأخبار الوطنی کے مدیر سے ہوا۔میں نے اسے بتایا کہ یہاں آنے سے قبل میرا بھی میدان صحافت سے ایک تعلق رہا ہے۔اس طرح میرا اسکے ساتھ ایک اچھا تعلق بن گیا تھا۔اسکی ایک بات میں کبھی نہیں بھول سکتا ہے جو ایک دن بڑی رازداری کے انداز میں اس نے مجھ سے کہی کہ آج عالم اسلام میں کوئی ایک لیڈر بھی ایسا نہیں جو فری میسن سے پے رول پر نہ ہو۔ان کے علاوہ جن لوگوں سے میں ملنے چلا جایا کرتا تھا ان میں ایک معہد الجوث الاسلامیہ کی لائبریری کے انچارج بھی قابلِ ذکر ہیں۔ان سے اچھی دوستی ہو گئی تھی۔پرانی نایاب کتابوں کے مخطوطات تک نکال کر مجھے استفادہ کرنے کے لئے دے دیا کرتے تھے۔