مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 168 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 168

152 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم صرف ایک کا ترجمہ کر پاتا۔جمعہ کے بعد میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس طرح میں تو حضور انور کے خطبہ کے بمشکل چوتھے حصہ کا ہی ترجمہ کر پایا ہوں۔اس کے بعد بڑی دعا بھی کی تو اگلے خطبہ میں کافی بہتری تھی۔اس کے بعد رمضان شروع ہو گیا تو روزانہ حضور انور کے درس کا ترجمہ ہونا شروع ہو گیا اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا اور الحمدللہ پھر کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔مکرم منیر احمد جاوید صاحب کی مصر روانگی ނ مکرم عبد المؤمن طاہر صاحب کی مصر میں عربی زبان کی تعلیم کے دوران ہی حضرت خليفة امسیح الرابع رحمہ اللہ نے مکرم منیر احمد جاوید صاحب کو بھی وہاں پر تعلیم کی غرض۔بھجوایا۔ان ایام کی بعض یادوں کا تذکرہ مکرم منیر احمد جاوید صاحب نے کچھ اس طرح کیا: میرا مصر میں قیام تقریبا ڈیڑھ سال رہا جس کے بعد ویزہ میں مزید توسیع نہ ہوسکی چنانچہ جب یہ صورتحال حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ لندن واپس آ جائیں۔قیام مصر کی بعض یا دیں قیام مصر کے دوران ہم تقریبا سبھی مصری احمدیوں کے ساتھ رابطے میں رہے بلکہ ان کے گھروں میں بھی آتے جاتے رہے یوں ہم ان سے زبان کے لحاظ سے اور وہ ہم سے جماعتی علوم کے بارہ میں استفادہ کرتے رہے۔ویسے تو تمام مصری احمدی ہی اخلاص ووفاء میں بڑھے ہوئے تھے لیکن ان میں سے مکرم کاظم صاحب کا ذکر میں بطور خاص کرنا چاہوں گا۔یہ دوست مختلف طریقوں سے زبان سیکھنے اور اسکی پریکٹس کرنے کے بارہ میں ہماری مدد کیا کرتے تھے۔انکا ایک طریق بہت ہی بھلا اور قابل قدر تھا کہ بڑی معصومیت اور حکمت کے ساتھ کوئی ایسا موضوع چھیڑتے جس کے بارہ میں انہیں یقین ہوتا کہ ہم جذباتی ہو کر لازمی کچھ بولیں گے۔چنانچہ جب واقعی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی تو یہ مسکراتے ہوئے کہتے : دیکھو تم نے کتنی اچھی عربی زبان سیکھ لی ہے اور کتنی روانی سے عربی بول رہے ہو۔