مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 167
151 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم انور کی خدمت میں ذکر کر دیا چنانچہ حضور کی طرف سے مجھے پیغام ملا کہ کل کے ترجمہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔یوں الحمد للہ ہالینڈ میں تو گزاراہ چل گیا۔جرمنی گئے تو حضور انور نے امیر صاحب جرمنی سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دفعہ ہم آپ کے لئے عربی زبان کے ایک سپیشلسٹ بھی لائے ہیں۔چنانچہ وہاں سوال و جواب کی مجلس میں ایک عربی دوست بھی شامل تھے جنہوں نے عربی میں سوال کیا تو حضور نے فرمایا کہاں ہیں مومن صاحب؟ چنانچہ مجھے وہاں ترجمہ کرنے کا موقعہ ملا لیکن میں بہت بوکھلایا ہوا تھا جس کی وجہ سے شاید ترجمہ اتنا معیاری نہیں تھا لیکن حضور انور نے اس پر کچھ تبصرہ نہ فرمایا۔عربی ترجمہ کی ڈبنگ کی ابتدا غالباً 1989 ء یا اس سے پہلے کی بات ہے کہ حضور انور نے ارشاد فرمایا کہ ہر ماہ میرے چار وں خطبات کو سن کر ان کا ترجمہ ڈبنگ کر کے عرب ممالک میں بھجوائیں۔میں نے شروع کیا۔ایک جملہ سن کر ڈبنگ کرنے کی کوشش کی تو ترجمہ کی کوئی سمجھ ہی نہ آئے۔بالآخر حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ چار خطبوں کا ترجمہ ڈبنگ کرنا تو بہت مشکل ہو گا۔حضور نے فرمایا چار نہیں تو دو ہی کر دیں اور دو نہیں تو ایک ہی کر دیں۔اب جب آکر شروع کیا تو مجھے تو ایک بھی کرنا محال معلوم ہورہا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ تو ہی سکھا اور توفیق دے۔چنانچہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص فضل تھا کہ بعد میں اس کی توفیق ملتی چلی گئی۔خطبہ جمعہ کا لائیو عربی ترجمہ جب ڈبنگ کا سلسلہ کسی قدر چل نکلا تو اسی عرصہ کی بات ہے کہ حضور انور کی طرف سے ارشاد موصول ہوا کہ میرے خطبہ جمعہ کا لائیو ترجمہ کریں۔جو اس وقت یہاں لندن میں موجود عرب احباب کے لئے ہوتا تھا۔میں حاضر ہوا تو مجھے ایک ایسے کمرہ میں ترجمہ کے لئے بٹھایا گیا جہاں باقی احباب بھی کام کی غرض سے آجارہے تھے اور کئی قسم کا سازوسامان اور مشینیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔بلکہ بعض اوقات اونچی آواز میں ایک دوسرے سے کوئی چیز مانگ بھی لیتے تھے۔بہر حال حضورانور کا خطبہ شروع ہوا۔حضور چار جملے بولتے تو میں بڑی مشکل سے ان میں سے