مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 156
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 140 بڑے جیتے والے مولوی سے اس کے ایک طالبعلم نے پوچھا کہ انلْزِ مُكُمُوهَا کونسا صیغہ ہے اور اس کی ترکیب کیا ہے۔مولوی نے جواب دینے کی بجائے اسے کہا کہ الاتقان فی علوم القرآن اور اس طرح کی دیگر کتب لے کے آؤ۔اس دوران میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک طالبعلم سے کہا کہ یہ قواعد کی اصطلاح میں اشباع کہلاتا ہے۔یعنی دراصل نُلْزِ مُكُمْهَا ہے جو کہ پڑھنا مشکل ہے اس لئے میم کی جزم کو پیش میں تبدیل کر کے اس کو اشباع کرتے ہوئے واؤ میں بدل دیا گیا ہے۔بہر حال سائل جب مطلوبہ کتب لے آیا تو اس میں یہی بات مذکور تھی۔لیکن مولوی نے اپنی طرف سے تو ایک لفظ نہیں بتایا تھا۔شاید اپنی خفگی مٹانے کے لئے یا علمیت جتانے کیلئے کہا: شُفْتَ الْعِلْمَ ؟ یعنی دیکھا میں نے تجھے کیسا عظیم الشان علمی نقطہ نکال کے دیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں سب علماء کا یہی حال تھا۔بعض بڑے پائے کے عالم تھے۔ان میں سے مجھے اپنے عربی کے استاد بہت پسند تھے۔وہ عربی زبان کے عاشق تھے اور ہمیشہ نھی بولتے تھے۔لیکن اس کے بالمقابل فقہ کے استاد تھے جو ہمیشہ عامیہ زبان میں ہی پڑھاتے تھے۔میں نے کئی بار کہا بھی کہ میں پاکستان سے صحی اعربی سیکھنے آیا ہوں۔اس پر وہ ایک دو جملے فضحی کے بولتے لیکن پھر اپنی ڈگر پر آجاتے۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ سگریٹ پیتے تھے اور کلاس میں بھی اس شغل سے باز نہیں آتے تھے۔از هری عالم کی معذرت اور ٹیکسی ڈرائیور کا اصرار اسی طرح ایک دفعہ ہمارے مخلص احمدی مکرم ابراہیم بخاری صاحب نے کہا کہ میرا ایک دوست ہے جس نے ازہر سے ایم اے کیا ہوا ہے۔میں آپ کا اس سے تعارف کروا دیتا ہوں آپ وقتا فوقتا اس کے پاس چلے جایا کرنا اور اپنی فضحی کی پریکٹس کر لیا کرنا۔ہم اس سے ملنے گئے تو ایک دو جملوں کے بعد اس نے بخاری صاحب سے کہا کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ میں فُصحی نہیں بول سکتا۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی ساری تدریس ہی عامیہ زبان میں ہوتی تھی۔حتی کہ کیمسٹری فزکس وغیرہ کے مضامین بھی عامیہ زبان میں پڑھائے جاتے تھے۔اسی سیاق میں مجھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ میں ایک ٹیکسی میں سوار ہوا اور خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مجھ سے باصرار پوچھا کہ آپ بولتے کیوں نہیں ہیں؟ وہاں کی