مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 150 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 150

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 1987ء میں انہوں نے احمدیت بھی قبول کر لی۔حلمی صاحب کے بعض نکات معرفت 134 مکرم حلمی صاحب کہا کرتے تھے کہ میں علمی اعتبار سے احمدیت کی حجت و برہان کی قوت سے احمدیت قبول کر چکا تھا لیکن احمدیت کا حقیقی علم مجھے اس وقت ہوا جب میں ابوظہبی میں احمدیوں کے ساتھ رہا۔اور خلافت کے مرتبہ کا پتہ اس وقت لگا جب میں حضرت خلیفہ ایح الثالث سے ملا اس وقت حضور بیمار تھے اور سارا ربوہ آپ کے لئے رو رو کر دعائیں کر رہا تھا۔اس وقت مجھے خلافت کی عظمت کا احساس ہوا۔اور خلیفہ وقت کا عرفان اس وقت نصیب ہوا جب مجھے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ساتھ بیٹھنے کا موقعہ ملا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا ذکر کرتے ہوئے علمی صاحب کی آواز بھتر ا جاتی تھی اور اکثر آخری عمر میں کہا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ حضور مجھ سے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں۔تم مجھے عربی سکھاتے ہو!! علمی صاحب ابھی مصر میں ہی تھے کہ آپ کو وقف کرنے کی توفیق ملی۔اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی طرف سے آپ کو جواب آیا کہ ٹھیک ہے آپ کا وقف قبول ہے۔آپ فی الحال وہیں جماعت کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں۔بعد میں جب ہمیں آپ کی کسی اور امر کے لئے ضرورت ہوگی تو آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔جب میں یہاں لندن آیا تو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضور انور کی خدمت میں درخواست کر کے حضور کی اجازت سے علمی صاحب کو بلوا لیتے تھے۔علمی صاحب نہ صرف مجلّہ التقوی میں ہماری بہت زیادہ مدد کرتے تھے بلکہ اپنے قیام کے دوران کسی نہ کسی کتاب کا ترجمہ بھی کر جاتے تھے۔ایک جلسہ پر آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی کتاب ”مذہب کے نام پر خون کا ترجمہ کیا۔اسی طرح اک مرد خدا (A Man Of God) کے کچھ حصہ کا ترجمہ کیا۔بعد میں 1994ء میں حضور انور نے انہیں یہیں لندن میں بلا لیا۔آپ اسلام آباد میں رہتے تھے اور اپنی وفات یعنی 1996 ء تک یہیں رہے۔